ہیروں کے بازار میں گجراتی سنائی دیتی ہے

Image caption اب اینٹورپ میں ہیروں کے اس بازار پر بھارتی تاجروں کا غلبہ ہے

بیلجيم میں اینٹورپ کے مرکزی سٹیشن سے بمشکل نصف کلومیٹر کے فاصلے پر ’ہوینی سٹراٹ‘ یعنی ڈائمنڈ سٹریٹ ہے۔

محض دو مربع کلومیٹر کے اس علاقے میں ہر روز اربوں روپے کے ہیروں کے سودے ہوتے ہیں۔

تقریباً تیس یا چالیس برس قبل یہاں ہیروں کے بیشتر تاجر یہودی ہوا کرتے تھے لیکن اب یہاں مہتا، گاندھی اور پٹیل جیسے نام عام ہیں اور اس سڑک پر گجراتی زبان بھی سنائی دیتی ہے۔

اب اینٹورپ میں ہیروں کے اس بازار پر بھارتی تاجروں کا کنٹرول ہے۔

’اینٹورپ انڈین ایسوسی ایشن‘ کے صدر میہل کوٹھاری کہتے ہیں: ’بھارتی ہونے کے ناطے مجھے فخر ہوتا ہے کہ نہ صرف بزنس میں ہم نے کامیابی حاصل کی ہے بلکہ معاشرتی طور پر بھی اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔ کسی کے لیے مواقع میں کمی نہیں ہوئی ہے۔۔۔ بزنس میں صحت مند مسابقت بڑھی ہے۔‘

سورت کا تجربہ کام آیا

Image caption ہیروں کے تاجر منسكھ پٹیل کہتے ہیں کہ اب اینٹورپ کے تقریباً 70 فیصد ہیروں کے تاجر بھارتی ہیں

ابتدا میں اینٹورپ پہنچنے والے بیشتر بھارتی تاجروں کا تعلق گجرات سے تھا۔ ان میں سے بھی بیشتر لوگ پالن پور کے رہنے والے تھے جنھیں سورت شہر میں ہیروں کی پالش اور كٹنگ کا اچھا تجربہ حاصل تھا۔ انھی خوبیوں کے سبب وہ اچھے پیسے بچا لیتے تھے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خرچ کم اور منافع زیادہ اور اس طرح آہستہ آہستہ یہاں کے یہودی تاجر غائب ہونے لگے۔

ہیرے کے تاجر منسكھ پٹیل کہتے ہیں کہ اب اینٹورپ کے تقریباً 70 فیصد ہیروں کے تاجر بھارتی ہیں۔

ہیروں کی ایک بڑی کمپنی ’یورو سٹار ڈائمنڈز‘ کے چیئرمین کوشک مہتا کا کہنا ہے کہ بھارتیوں نے یہاں خود بھی پیسہ کمایا اور دوسروں کو بھی کمانے کا موقع دیا۔

’یہاں کی یہودی برادری نے بھارتی نژاد لوگوں کو اچھی طرح سے اپنایا ہے۔‘

یہودیوں پر پڑنے والے اثرات

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption ’ہندوستانی اس کاروبار میں بہت سے نت نئےطریقے لے کر آئے۔ بھارتی برادری اینٹورپ کے لیے بڑی نعمت ہے‘

لیکن ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اس سے یہودی برادری پراثر نہیں پڑا؟ تو ان کا کہنا تھا: ’ہیروں کے کاروبار کا کیک تو اتنا ہی بڑا ہے۔ کیک تو بڑا نہیں کیا جا سکتا نا۔‘

اگرچہ دیکھنے سے ایسا نہ لگتا ہو لیکن یہودی تاجروں پر اس تبدیلی کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انھیں تجارت کرنے کے طور طریقوں کو بدلنا پڑا اور اب تو یہودی تاجروں کی نئی نسل اس کاروبار سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

’ونڈيم‘ نام کی ایک بڑی کمپنی کے ڈائریکٹر گانریز اسرائیل میں بھی کام کر چکے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ بھارتی تاجروں نے اس کاروبار کو فائدہ ہی پہنچایا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ہندوستانی اس کاروبار میں بہت سے نت نئےطریقے لے کر آئے۔ بھارتی برادری اینٹورپ کے لیے بڑی نعمت ہے۔‘

ہر برس اینٹورپ میں تقریباً 23 کروڑ قیراط ہیروں کے سودے ہوتے ہیں۔ بیلجیم کی سالانہ برآمدات میں ہیروں کا حصہ تقریباً پانچ فیصد ہے۔ ظاہر ہے یہ کاروبار بیلجیم کے لیے بہت اہم ہے۔

ٹیکس میں چوری کے الزامات

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایسا لگتا ہے کہ ہیرا ان کے لیے ہمیشہ ہی منافعے کا سودا رہےگا

لیکن ہیروں کی تجارت ہمیشہ ہیروں ہی کی طرح شفاف نہیں ہوتی۔ اس کاروبار پر ٹیکس چوری کے الزام لگتے رہے ہیں۔

اینٹورپ کے ہیروں کے تاجروں کی تنظیم ’اینٹورپ ورلڈ ڈائمنڈ سینٹر‘ کی ترجمان مارگ ڈانكيئر ہیروں کی تجارت میں ٹیکس چوری کے الزامات پر کہتی ہیں: ’ہمارے قوانین انتہائی سخت ہیں۔ منی لانڈرنگ کے حوالے سے بھی ہمارے خاص قوانین ہیں۔ ہم وقتاً فوقتاً ہیرے کے تاجروں کو اس سے متعلق معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں۔‘

ہیروں کے لیے دبئی جیسے نئے تجارتی مراکز بھی ابھر رہے ہیں۔ ایسے میں بیلجیم کے ہیرا بازار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کے بعد بھارتی تاجر اب اپنے کاروبار کو پوری دنیا میں پھیلا رہے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ ہیرا ان کے لیے ہمیشہ ہی منافعے کا سودا رہےگا۔

اسی بارے میں