دفاعی بجٹ میں سب سے زیادہ کس نے اضافہ کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سیپری کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی میں جاری جنگ سعودی عرب کے فوجی اخراجات میں اضافے کا سسب ہے

عالمی سطح پر فوجی اخراجات سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2014 میں اگر چہ امریکہ کے فوجی اخراجات میں کمی آئی لیکن روس، چین اور سعودی عرب کے اخراجات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری) کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتیجے میں سعودی عرب کے فوجی اخراجات میں 17 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب ادارے کا کہنا ہے کہ یوکرین کے بحران کی وجہ سے روس کے فوجی اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال یہ 20 فی صد سے زیادہ رہا اور رواں سال اس میں مزید اضافے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ہرچند کہ گذشتہ سال عالمی سطح پر دفاعی اخراجات میں کمی آئی ہے تاہم مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے حالات مختلف ممالک کے دفاعی بجٹ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کے مطابق گذشتہ سال فوجی اخراجات صفر اعشاریہ چار فی صد کی کمی کے ساتھ یہ 18 کھرب ڈالر رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سیپری کے مطابق روس کے فوجی اخراجات میں اضافے کا سبب بطور خاص یوکرین جنگ ہے

امریکہ کے بجٹ میں چھ اعشاریہ پانچ فی صد کی کمی ہوئی ہے لیکن چین، روسی اور سعودی عرب نے کثیر تعداد میں اسلحے خریدے ہیں جس سے ان کے اخراجات میں اضافہ دیکھا گيا ہے۔

چین میں 7۔9 فی صد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دوسری جانب دفاع پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے پانچ مغربی یورپی ممالک فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور سپین نے اپنے بجٹ میں کٹوتی کی ہے اور رواں سال اس میں مزید کمی کی امید کی جا رہی ہے۔

اسی طرح لاطینی امریکی ممالک میں میکسیکو کے فوجی اخراجات میں 11 فی صد کا اضافہ دیکھا کیا گیا ہے جبکہ برازیل میں اس میں کمی آئی ہے۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ کی اپنی ایک رپورٹ میں سیپری نے کہا تھا کہ بھارت گذشتہ سال ایک بار پھر سب سے زیادہ ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کا خریدار ثابت ہوا۔

اس میں کہا گيا تھا کہ بھارت کی فوجی سازوسامان کی درآمدات اس کے پڑوسی ممالک چین اور پاکستان کی درآمدات سے تین گنا زیادہ رہے۔ تاہم سالانہ فہرست میں بھارت نویں سےساتویں پوزیشن پر آگیا ہے۔

اس فہرست میں کل 15 ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں