لیبیا میں مراکش کے سفارتخانے کے باہر دھماکہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اتوار کو لیبیا میں جنوبی کوریا کے سفارت خانے پر گولی برسائی گئی تھی

لیبیا میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت طرابلس میں مراکش کے سفارت خانے کے دروازے پر ایک بم دھماکہ ہوا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس دھماکے سے چند گھنٹے قبل جنوبی کوریا کے سفارت خانے کے باہر دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

دھماکے میں وہاں موجود چند کاروں کو نقصان پہنچا ہے لیکن کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہے۔ یہ سفارت خانہ ابھی زیر استعمال نہیں ہے۔

اتوار کو جنوبی کوریا کے سفارت خانے کے پاس سے گزرنے والی ایک کار میں سے سیکورٹی پوسٹ پر گولیاں چلائی گئیں۔

جنگجو تنظیم دولتِ اسلامیہ نے کہا ہے یہ حملہ کہ انھوں نے کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طرابلس شہر کے بن عاشور علاقے میں یہ بم مراکش کے سفارت خانے کے دروازے پر پھٹا۔

ایک عینی شاہد نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پیر کی صبح ہونے والا ’یہ دھماکہ بہت زبردست تھا۔ کئی سیکنڈ کے لیے عمارتیں ہل گئیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جنوبی کوریا پر حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے

ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا کوئی اس وقت سفارت خانے میں موجود تھا اور یہ کہ ابھی تک اس دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ مراکش نے اقوام متحدہ کی امداد سے لیبیا حکومت کے مخالف گروہوں میں بات چیت منعقد کروائی تھی۔

اتوار کو ہونے والے حملے میں لیبیا کے ایک سکیورٹی گارڈ کے علاوہ ایک شہری ہلاک ہو گیا جبکہ ایک دوسرا شہری زخمی ہوا ہے۔

حکام نے بتایا کہ جنوبی کوریا کے دو سفارت کار اسی کیمپس میں موجود اپنی رہائش گاہوں میں تھے تاہم انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

یہ سفارت خانہ بھی کئی ماہ سے بند پڑا ہے لیکن حکام اس کا استعمال کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2011 میں لیبیا کے صدر معمر قذافی کی معزولی کے بعد سے لیبیا سورش کا شکار ہے۔

اسی بارے میں