غیر فیصلہ کن طوفانی چڑھائی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شمالی یمن میں سرحد کے قریب سعودی فوج اور حوثیوں کے درمیان تصادم ہو چکا ہے

گذشتہ تین ہفتوں سے سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد میں شامل لڑاکا طیارے یمن کے طول و عرض میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن میں خلیجی ریاستوں کے طیارے پیش پیش ہیں۔

ہر شام اتحادی فوجوں کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمدالاسیری سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک فضائی اڈے پر ذرائع ابلاغ کے سامنے اس بمباری کا ایک پرجوش جائزہ پیش کرتے ہیں۔

لیکن جو بیانیہ ’آپریشن ڈیسائسِو سٹارم‘ نامی اس ’فیصلہ کن طوفان‘ کے آغاز سے سننے کو مل رہا تھا اب اس میں کسی قدر تبدیلی آ چکی ہے۔

جنرل احمدالاسیری کے بقول ’ہم اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں۔ ہم دشمن کے ٹھکانوں کو ایک منصوبے کے تحت تباہ کر رہے ہیں۔‘

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے اصل میں یہ مقاصد کیا ہیں اور آیا یہ مقاصد حاصل ہو رہے ہیں یا نہیں؟

کنٹرول حوثیوں کے ہاتھ میں

25 مارچ کو جب باقاعدہ فضائی حملوں کا آغاز ہوا تو سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے عزائم واضح اور سادہ تھے اور وہ یہ تھے کہ یمن کو باغیوں کے قبضے سے چھڑایا جائے اور طاقت دوبارہ ملک کے قانونی صدر، عبد ربہ منصور ہادی کے حوالے کی جائے۔

تاحال ان دونوں مقاصد میں سے ابھی تک کوئی ایک بھی حاصل نہیں ہو سکا۔

عملی طور پر مسٹر ہادی سعودی عرب میں ایک شاہی مہمان خانے میں مقید ہو چکے ہیں جبکہ یمن میں ان کی بچی کچھی حمایت بھی ختم ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حوثیوں کو سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی سکیورٹی حکام اور اہلکاروں کی حمایت حاصل ہے

حوثیوں کو سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی سکیورٹی حکام اور اہلکاروں کی حمایت حاصل ہے۔

یمن کے جنوب میں رہنے والے سکیورٹی اہلکاروں کے پاس اگرچہ اسلحہ ناکافی ہے لیکن ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ عدن کو شمالی حوثیوں سے بچانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم وہ اس بات پر برہم بھی ہیں کہ ان کے صدر خود تو ملک سے فرار ہو گئے ہیں مگر انھیں بےیار و مددگار چھوڑ گئے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ستمبر میں دارالحکومت صنعا پر کامیاب چڑھائی اور اس پر قبضہ کر لینے والے حوثیوں کو گذشتہ تین ہفتوں کی فضائی بمباری سے خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مغربی یمن کے زیادہ آبادی والے علاقوں میں زمین پر کنٹرول ابھی تک حوثیوں کے پاس ہے۔

حوثیوں کی اس کامیابی میں ایران کی مبینہ مدد کا کردار اتنا زیادہ نہیں جتنا کہ اُس مدد کا ہے جو انھیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی رپبلکن گارڈ اور فوج میں سابق صدر کے حامی دستے فراہم کر رہے ہیں۔

سعودی اعتماد پر سوالیہ نشان

حوثیوں باغی یمن کے انتہائی شمالی علاقوں کے باسی ہیں اور ان کا تعلق شیعہ اسلام کے ساتھ ہے۔ یمن کی آبادی میں شیعہ مسلمانوں کی تعداد 30 فیصد ہے جبکہ باقی آبادی سنّی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ حوثی شاید جانتے ہیں کہ وہ شمالی یمن پر اپنا قبضہ غیر معینہ مدت تک قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ وہ اپنا موقف ثابت کرنے کے بعد یہاں سے انخلا کا اعلان کر دیں گے، یعنی وہ یہ ثابت کرنا چاہیں گے کہ بے شمار فضائی حملوں اور امریکی ساخت کے جدید ترین میزائلوں سے نشانہ بنائے جانے کے باوجود انھیں ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔

یمن میں جاری فوجی کارروائی ایک لحاظ سے سعودی عرب کے جوان وزیرِ دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کا امتحان بھی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اس ’فیصلہ کن‘ آپریشن میں سعودی عرب کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کی عمر محض 34 برس ہے اور ابھی تک ان کی صلاحیتوں کا کوئی بڑا امتحان نہیں ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوجی کارروائی سعودی عرب کے جوان وزیرِ دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کا امتحان بھی ہے

اگر یہ کارروائی ناکام ہو جاتی ہے تو شہزادہ محمد کی صلاحیتوں پر حرف آئے گا، بلکہ ان سے زیادہ یہ ان کے والد شاہ سلمان کی عزت کا سوال ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ سعودی قیادت جانتی ہے کہ یمن میں ناکامی اسے مہنگی پڑ سکتی ہے، نہ صرف اس لحاظ سے کہ یمن کا عدم استحکام سرحد پار سعودی عرب تک پھیل سکتا ہے بلکہ سعودی عرب کے عوام میں شاہی خاندان کی شہرت بھی خراب ہو سکتی ہے۔

حملہ آوروں کا قبرستان

وقتاً فوقتاً یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ سعودی ٹینک یمن کی سرحد کے قریب آتے جا رہے ہیں، جس سے ان افواہوں کو تقویت ملتی ہے کہ شاید سعودی عرب یمن پر زمینی چڑھائی بھی کر سکتا ہے۔

لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ یمن حمہ آوروں کے لیے قبرستان ثابت ہو سکتا ہے۔

سنگلاخ پہاڑی زمین اور یہاں کے جنگجو قبائلی لوگوں کے ہوتے ہوئے یمن کے خلاف جنگ انتہائی مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر آپ کو اس پر یقین نہیں تو مصریوں یا برطانویوں سے پوچھیے، بلکہ ماضی قریب میں یمن میں جانیں گنوانے والے سعودی بھی آپ کو یہی بتائیں گے کہ یمن کے خلاف جنگ آسان کام نہیں۔

گذشتہ کئی دنوں سے سعودی اتحاد کی جانب سے جاری فضائی بمباری میں کوئی وقفہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر سعودی اتحاد یمن پر زمینی حملہ کرتا بھی ہے تو یہ ایک وقتی کارروائی ہی ہو گی، مثلاً مستقبل قریب میں کسی سیاسی تصفیے پر پہنچنے کے لیے اتحادی فوجیں صنعا کے ارد گرد ایک حفاظتی حصار بنا کر حوثیوں کو مذاکرات کی میز پر لا سکتی ہیں۔

ایران، جس کا اس سارے تنازعے میں کردار واضح نہیں ہے، وہ کئی مرتبہ سعودی عرب پر الزام لگا چکا ہے وہ یمن میں نسل کشی کر رہا ہے اور ایران کا مطالبہ ہے کہ فوراً جنگ بندی ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سعودی اتحاد کی جانب سے جاری فضائی بمباری میں کوئی وقفہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے

پیر کو ایرانی وزیرِ خارجہ نے تجویز دی کہ وقت آ گیا ہے کہ ایران کی مدد سے یمن میں ایک نئی حکومت کا انتخاب کیا جائے۔

اس تجویز پر سعودی عرب کا رد عمل ایسا تھا جیسے اسے دورہ پڑ گیا ہو۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک سعودی مشیر کا کہنا تھا کہ ’یہ تجویز ایسی ہے کہ اس پر کسی قسم کی گفتگو کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ سعودی عرب کا نیا اصول ایک ایسی عرب دنیا کا قیام ہے جس میں ایران کا کوئی کردار نہ ہو۔ یہ ایرانی تجویز تہران سے جاری ہونے والی مغالطے سے بھرپور بیان بازی کی ایک مثال ہے جو تہران کا شیوہ بن چکا ہے۔‘

سیاسی تصفیہ

تو سوال یہ ہے کہ یہ جنگ آخر ختم کیسے ہو گی؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے آیا ایسا حقیقت میں ہوگا بھی یا نہیں؟

شاید اس کا جواب یہی ہے کہ یہ جنگ ختم ہو جائے گی لیکن خاصی تباہی کے بعد۔

عدن، جہاں صدر ہادی نے سعودی عرب فرار ہونے سے پہلے پناہ لی تھی، وہ اس جنگ کا خاص طور پر نشانہ بنا ہوا ہے۔

اگر آپ اس لڑائی سے مشرقی یمن میں القاعدہ کو پہنچنے والے فائدے کو ایک طرف رکھ دیں تو واضح نہیں کہ تین ہفتے گزر جانے کے بعد یہ لڑائی کون جیت رہا ہے اور کسے شکست ہو رہی ہے۔

آخرِ کار کوئی سیاسی تصفیہ تو ہو کر رہے گا، ایک ایسا مفاہمتی حل جو ہر فریق کو کسی قدر قبول ہو گا کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایک یا دوسرا فریق لڑائی ختم نہیں کرے گا۔

ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ سعودی ہمیشہ سے یہی چاہتے ہیں کہ کوئی سیاسی مفاہمت ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لگتا یہی ہے کہ یہ جنگ ختم ہو جائے گی لیکن خاصی تباہی کے بعد

’میں سمجھ سکتا ہوں کہ سعودی یہ فوجی کارروائی کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انھیں اس میں فتح ہوئی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے وہ کامیابی ابھی تک سعودی عرب کے ہاتھ میں آئی نہیں ہے۔ فی الحال تو اس لڑائی کا بیانیہ وہی ہے جو حوثی کہہ رہے ہیں۔‘

اس جنگ کا خاتمہ کچھ بھی ہو، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یمن کے مستقبل میں سعودی عرب کا کردار بہرحال بہت اہم ہو گا۔ ابھی تک یمن ان ممالک میں سرفہرست رہا ہے جنھیں سعودی عرب سے کثیر مالی امداد ملتی رہی ہے۔

دیگر خلیجی ریاستوں کی طرح سعودی عرب بھی بالکل نہیں چاہتا کہ یمن تباہ ہو جائے اور اسی لیے سعودی عرب یمن پر کروڑوں ڈالر نچھاور کرتا رہا ہے۔

اگر یمن پر حوثیوں کا تسلط قائم رہتا ہے تو یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ سعودی عرب معاشی مدد کا یہ نلکا دوبارہ کھول دے گا۔

اسی بارے میں