نائجیریا میں طالبات کے اِغوا کو ایک سال مکمل

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption 14 اپریل سنہ 2014 کو نائجیریا میں بورنو صوبے سے 219 لڑکیوں کو اغوا کر لیا تھا جس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی تھی

نائجیریا میں 200 سے زائد طالبات کے اِغوا کو ایک سال بیت چکا ہے جبکہ چند خواتین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے تین ہفتے قبل 50 سے زیادہ لڑکیوں کو زندہ حالت میں دیکھا تھا۔

ایک خاتون نے بتایا کہ انھوں نے اِغوا شدہ لڑکیوں کو نائجیریا کے شمال مشرقی شہر گووزا میں دیکھا۔

شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے ٹھیک ایک سال پہلے نائجیریا میں بورنو صوبے کے چیبوك شہر سے 219 لڑکیوں کو اِغوا کر لیا تھا جس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بدھ کے روز لڑکیوں کے اغوا کے متعلق بیداری کے تحت نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں ایک جلوس نکالا گیا

لڑکیوں کے اِغوا کے ایک ماہ بعد بوکو حرام کے سربراہ ابو شیکاؤ نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ طالبات نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ان کی شادیاں ہو گئی ہیں۔ ان کے اس بیان سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ لڑکیوں کو جنسی غلام کے طور پر رکھا جا رہا ہے۔

’برنگ بیک اور گرلز‘ یعنی ’ہماری لڑکیوں کو واپس لاؤ‘ کی مہم چلانے والے گروپ نے نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں گذشتہ بدھ کو لڑکیوں کے اِغوا کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے لیے ایک خاموش مارچ کا انعقاد کیا۔

منگل کو لڑکیوں کے اِغوا کا ایک سال مکمل ہونے پر نائجیریا سمیت دنیا بھر میں پروگراموں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں ابوجا میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہو گی جس میں 219 طالبات 14 اپریل 2014 کواِغوا ہونے والی طالبات کی نمائندگی کریں گی۔

منگل کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا کہ سنہ 2014 کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں دو ہزار لڑکیوں اور خواتین کو اغوا کیا گیا اور انھیں جنسی غلام اور جنگجو بنایا گیا۔

نوبیل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ یوسف زئی نے نائجیریا کے حکام اور بین الاقوامی برادری کے نام ایک کھلے خط میں لڑکیوں کی رہائی کے لیے مزید کوششیں کرنے کی اپیل کی ہے اور اب تک ہونے والی ناکامی پر تنقید بھی کی ہے۔

’برنگ بیک اور گرلز‘ کی ایک ترجمان عائشہ یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے تو صدر گڈلک جوناتھن کی حکومت نے اغوا پر یقین ہی نہیں کیا اور بورنو میں برسراقتدار اپنی مخالف جماعت پر الزام لگایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2014 کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں دو ہزار لڑکیوں اور خواتین کو اغوا کیا جا چکا ہے

خیال رہے کہ بوکوحرام نے دولتِ اسلامیہ کے ساتھ حمایت کا اعلان کیا ہے، اور دولتِ اسلامیہ عراق و شام میں اسی طرح کے اغوا کے لیے جانی جاتی ہے۔

گووزا میں بوکو حرام کے اقتدار والے علاقے میں رہنے والی ایک نائجیریائی خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے لڑکیوں کو اسلامی لباس میں دیکھا تھا جنھیں شدت پسند لیے جا رہے تھے۔

اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر انھوں نے بتایا: ’وہ کہہ رہے تھے کہ یہ چیبوك کی لڑکیاں ہیں جنھیں ایک بڑے مکان میں رکھا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’یہ محض اتفاق تھا کہ ہم بھی اسی سڑک پر جا رہے تھے جس پر وہ جا رہی تھیں۔‘

تین دیگر خواتین نے بھی بی بی سی سے ان لڑکیوں کو دیکھنے کی بات کی۔

ایک دوسری خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ان لڑکیوں کو نومبر میں ملک کے شمال مشرقی حصے کے ایک کیمپ میں دیکھا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نائجیریا کے نئے صدر محمد بخاری نے باغیوں کو کچلنے کا عہد کیا ہے

’جب وہ وہاں لائی گئیں تو اس کے ایک ہفتے کے بعد ہم نے کھڑکی سے جھانکتے ہوئے ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ چیبوک کی لڑکیاں ہیں جس کے جواب میں انھوں نے ’ہاں‘ کہا تھا۔ ہم نے ان کا یقین کیا اور پھر ان سے کبھی نہیں پوچھا۔‘

انھوں نے بتایا: ’انھیں قرآنی تعلیمات دی جاتیں، وہ اپنے گھر صاف کرتیں، خود سے کھانا پکاتیں اور ایک دوسرے کے بال سنوارتیں۔ ان سے اچھا سلوک رکھا جاتا تھا۔ ان کی خوراک اچھی اور پانی صاف تھا۔‘

بوکو حرام کیا ہے

  • سن 2002 میں قائم کی جانے والی تنظیم مغربی تعلیم کی مخالف ہے
  • بوکو حرام کا لفظی مطلب ہے ’مغربی تعیلم حرام ہے‘
  • تنظیم نے 2009 میں اسلامی ریاست بنانے کے لیے کارروائیوں کا آغاز کیا
  • اس کے ہاتھوں نائجیریا بھر میں اور خصوصاً ملک کے مشرقی علاقوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں
  • دارالحکومت ابوجا میں اس تنظیم نے اقوامِ متحدہ کے دفتر اور پولیس پر حملے بھی کیے ہیں
  • 200 سے زائد طالبات کے علاوہ بھی یہ سینکڑوں افراد کو اغوا میں ملوث ہے
  • حال ہی میں اس تنظیم نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی حمایت کا اعلان کیا تھا

ادھر نائجیریا کے رخصت ہونے والے صدر گڈلک جوناتھن نے کہا کہ ان 300 سے زیادہ لڑکیوں کے اغوا کو ایک سال ہو چکا ہے اور ان کے خیال میں لڑکیوں کی خیرسگالی پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے اس میں سیاست در آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چیبوک کی اغوا شدہ لڑکیوں کے اہل خانہ ابھی بھی اپنی بچیوں کی راہ دیکھ رہے ہیں

ادھر 29 مئی کو صدر کا عہدہ سنبھالنے کے لیے تیار صدر محمد بخاری نے باغیوں کو ’کچلنے‘ کا عہد کیا ہے۔

اسی بارے میں