’کیا مشرقِ وسطیٰ میں عیسائیت خطرے میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینٹ میتھیو کی خانقاہ میں صرف چھ راہب رہ گئے ہیں

کیاعیسائیت جس کا ظہور مشرقِ وسطی میں ہوا تھا، خطے میں جاری تنازعات اور ظلم وستم کے باوجود بچ جائے گی۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اسلامی شدت پسندی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں عیسائی اپنے ملکوں کو چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں۔ ان کی حالتِ زار جاننے کے لیے بی بی سی کی جین کوربنِ نے شام اور اعراق سمیت خطے کا سفر کیا ہے۔

جب میں ایک پہاڑی راستے سے ہوتے ہوئے عراق کے نینوی علاقے میں واقع چوتھی صدی میں بنائی گئی سینٹ میتھیو کی خانقاہ کی جانب بڑھ رہی تھی تو عبادت میں مصروف راہبوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

جب سلطنتِ روم کا سرکاری مذہب عیسائیت تھا اس زمانے میں یہاں سات ہزار راہب عبادت کیا کرتے تھے۔

اس وقت یہاں کی تقریباً تمام آبادی عیسائی تھی لیکن اب یہاں عیسائیوں کی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔

خانقاہ میں صرف چھ راہب رہ گئے ہیں اور زائرین ادھر آنے کی ہمت نہیں کرتے۔

پادری یوسف نے مجھے بتایا کہ ’یہاں سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجو دور نہیں ہیں اس لیے لوگ یہاں آنے سے خوف زدہ ہیں۔ہم اپنے خاندان، لوگ اور اپنے مذہب عیسائیت کے بارے میں پریشان ہیں۔‘

کرد جنگجو خانقاہ کی حفاظت کر رہے تھے اور دور میدان سے گولہ باری کی آواز آ رہی تھی اور خود ساختہ دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر اتحادی طیاروں کی بمباری کے بعد دھواں اٹھتا ہوا دیکھائی دے رہا تھا۔

دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ برس نینوی کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے موصل اور اس کے ارد گرد واقع قصبوں سے ہزاروں کی تعداد میں عیسائی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

خانقاہ میں کچھ عیسائی خاندانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

13 سالہ نردین جو کچھ عرصہ سے اپنے خاندان کے ساتھ یہاں رہ رہی ہے نے مجھے بتایا کہ ’دولتِ اسلامیہ کے جنگجو بہت ظالم ہیں سب جانتے ہیں کہ انھوں نے یزیدی لڑکیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا۔‘

نردین کی ماں کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو کسی کے ساتھ رحمدلی کے ساتھ پیش نہیں آتے وہ عورتوں کا ریپ کرتے ہیں ’ ہم اپنی بیٹیوں کے لیے فکر مند تھے اس لیے بھاگ کر ہیاں آگئے۔‘

خانقاہ کی حفاظت کرنے والے کرد پیشمرگا فوجی دولتِ اسلامیہ کے انتہا پسند اسلام سے متفق نہیں ہیں اور کرد پیشمرگا فوج کے جنرل حمید آفندی نے مجھے یقین دلایا کو وہ ہر حالت میں عیسائیوں کی حفاظت کریں گے۔ ’ہم یہاں ایک عرصے بھائیوں کی طرح رہ رہے ہیں اور کردستان میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔‘

عیسائیوں کے ساتھ اسی طرح کے سلوک کی کہانی مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ملکوں میں بھی دہرائی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایشنیٹِ معلولا سے بھاگنے والے عیسائی شہریوں میں شامل تھیں۔

شام کا قدیم شہر معلولا صدر بشارلاسد اور القاعدہ کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے درمیان سنہ 2013 میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

معلولا دنیا کا واحد شہر ہے جہاں ابھی بھی حضرت عیسیٰ کی مادری زبان آرامی بولی جاتی ہے۔

عیسائی مذہب کے اس مقدس شہر پر جب مسلمان شدت پسندوں کا قبضہ ہوا تھا تو تین ہزار عیسائی شہر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔

اب شہر پر دوبارہ حکومتی افواج کا کنٹرول ہے اور آہستہ آہستہ عیسائی آبادی واپس آ رہی ہے۔

واضع رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جس میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

شہر پر حکومتی فوج کے دوبارہ قبضے کے بعد صدر بشارالاسد نے یہاں کا دورہ بھی کیا ہے۔ ان کو ملک کی عیسائی آبادی کی حمایت کی ضرورت ہے۔

معلولا پر قبضہ شام میں رہنے والے عیسائیوں کے لیے ایک اہم موڑ تھا اور ان کو کچھ سخت فیصلے کرنے پڑے۔ وہ جانتے تھے کہ اپنے مذہب کو بچانے کے لیے انھیں حکومت کی حمایت کرنی پڑے گی۔

شہر کی ایک عیسائی رہاشی خاتون ایشنیٹِ کا کہنا تھا کہ ’ صرف حکومت ہی عیسائیوں کو شام میں رہنے کے لیے مدد فراہم کر سکتی ہے، معلولا میرے دل میں بستا ہے، میں اس کو چھوڑ نہیں سکتی کیونکہ میرے خیال میں اگر معلولا میں عیسائی نہیں ہوں گے تو پھر شام میں بھی عیسائی نہیں ہوں گے۔‘

مغرب میں عیسائی رہنماؤں نے مشرقِ وسطی میں عیسائیوں کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ یہ ٹھوس اقدامات کیا ہوں گے خطے میں شدت پسندوں کے خلاف مغربی اتحادی افواج فوجی کارروائی تو پہلے ہی کر رہی ہیں۔

عراقی شہر اربیل کے پادری ڈیگلس کا خیال ہے کہ پہلے ہی بہت دیر ہوگئی ہے اور اب خطے میں عیسائی مذہب کا بچنا بہت مشکل ہے۔

’مغرب عیسائیوں کو عراق میں رہنے کی تلقین کرنے کے بجائے اپنے دروازے کھلے، میرے لوگوں کو ویزے دے۔ہمیں لوگوں کو باوقار زندگی گزارنے کے مواقعے فراہم کرنے ہوں گے۔ہم انھیں یہاں مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے۔‘

اسی بارے میں