’خواتین حجاب اتار دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصر کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا مفتی علی گوما نے چوباچی کے خیالات کو مسترد کر دیا ہے

مصر کے ایک صحافی نے ملک میں موجود مسلم خواتین کے لیے ایک متنازع پیغام جاری کیا ہے جس میں انھیں حجاب ہٹانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مصری روزنامے الیوم السابی میں شائع ہونے والی ایک خبر میں شیرف چوباچی نامی اس صحافی نےکہا ہے کہ ساری خواتین کو مصر کے دارلحکومت قاہرہ میں واقع تحریر سکوائر میں ایک مظاہرے میں شرکت کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین تحریر سکوئر میں مردوں کی طرف سے بنائے گئے ایک انسانی دائرے میں کھڑے ہو کر اپنا حجاب اتار دیں۔

اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں چوباچی نے کہا کہ خواتین کو معاشرتی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے اور انہیں حجاب نہ پہننے پر تحقیر کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ وہ ایسا ڈر کی وجہ سے کرتی ہیں۔

مصر میں حجاب پہننا ابھی بھی ایک متنازع مسئلہ ہے۔ بہت سے مذہبی علما کا کہنا ہے کہ اسلام میں اس کا پہننا لازمی ہے۔ جب کہ دناشورانہ سوچ یہ کہتی ہے کہ یہ لازم نہیں ہے اور یہ پرانی ثقافت کا حصہ ہے نہ کہ مذہب کا۔

مصر کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا مفتی علی گوما نے چوباچی کے خیالات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی بھی اگر حجاب کے بارے میں ایسا موقف اختیار کرتا ہے وہ مصر کی تاریخ اور اس کے معاشرے کو نہیں سمجھتا۔

دوسری جانب بہت سے سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ حجاب پہننے یا نہ پہننے کا فیصلہ خواتین پر چھوڑ دینا چاہیے۔

ٹوئٹر پر ایک صاحب کہتے ہیں: ’میں ایک لبرل انسان ہوں لیکن میں اس خیال کے خلاف ہوں۔ حجاب پہننا یا نہ پہننا ایک ذاتی فیصلہ ہے۔‘

ایک اور صاحب کہتے ہیں کہ ’لوگوں کو اس بارے میں پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔‘ جبکہ ایک اور سوشل میڈیا کا خیال ہے کہ ’کاش لوگ تعلیم اور صحت کے مسائل پر بھی اتنی ہی توجہ دیں جتنی کے خواتین کے حجاب پہننے پر دیتے ہیں۔‘

اسی بارے میں