ملازمہ کو پھانسی دینے پر انڈونیشیا کا سعودی عرب سے احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیتی زینب کو سنہ 1999 میں اپنے آجر کو چاقو سے زخمی کرنے کے بعد انھیں جان سے مارنے کا جرم ثابت ہونے یہ سزا سنائی گئی

انڈونیشیا کی حکومت نے اپنی ایک گھریلو ملازمہ کو سعودی عرب میں پھانسی دیے جانے کےخلاف جکارتہ میں سعودی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔

سیتی زینب نامی گھریلو ملازمہ کو مدینہ میں منگل کو پھانسی دی گئی تھی۔

سیتی زینب کو سنہ 1999 میں اپنے آجر کو چاقو سے زخمی کرنے کے بعد انھیں جان سے مارنے کا جرم ثابت ہونے پر یہ سزا سنائی گئی۔

انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ ریتنو مارسودی کا کہنا ہے کہ نہ انڈونیشیا کے قونصل حکام اور نہ ہی سیتی زینب کے خاندان کو اس فیصلے سے قبل کوئی نوٹس دیا گیا۔

خیال رہے کہ انڈونیشیا کے موجودہ صدر جوکو ودودو اور ان کے تین پیش رو صدور نے سعودی عرب سے اس مقدمے میں رحم کی اپیل کی تھی۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

ان تنظیموں کا موقف ہے کہ سیتی زینب اپنا دفاع کر رہی تھیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہوں۔

انڈونیشیا کی خبر رساں ایجنسی انتارا نے وزیرِ خارجہ مارسودی کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب سے اس بات کی وضاحت مانگی ہے کہ سیتی زینب کو پھانسی دینے سے قبل انڈونیشیا کو آگاہ کیوں نہیں کیا گیا؟

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم نے سیتی زینب کی پھانسی رکوانے کے لیے تمام کوششیں کیں جس میں سفارتی چینلز اور قانونی طریقے شامل ہیں، ہم نے مرنے والے شخص کے خاندان سے رابطہ کیا یہاں تک کہ میں نے گذشتہ ماہ سعودی نائب وزیرِ خارجہ سے اپنی ملاقات میں بھی اس مسئلے پر بات کی۔‘

دوسری جانب انڈونیشیا میں سعودی سفیر مصطفیٰ ابراہیم المبارک کا کہنا ہے کہ وہ اپنی طلبی پر ’حیران‘ ہیں تاہم وہ ’اس بات کی جانچ کریں گے کہ معاملہ کہاں خراب ہوا؟‘

ادھر سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ سیتی زینب کی پھانسی کو 15 سے زیادہ برس تک ملتوی کیاگیا یہاں تک کہ مرنے والے سعودی شخص کے خاندان کا سب سے چھوٹا بچہ بھی اتنا بڑا ہو گیا کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ اس کا خاندان سیتی زینب کو معاف کرے یا ان کی پھانسی کا مطالبہ کرے۔

انڈونیشیا کے غیر ملکی کارکنوں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم مائگرینٹ کیئر نے الزام عائد کیا کہ سیتی زینب سعودی آجر کی جانب سے ان کے خلاف برا سلوک کرنے پر اپنا دفاع کر رہی تھیں۔

اپنی گرفتاری سے پہلے سیتی زینب نے انڈونیشیا کی وزیرِ خارجہ ریتنو مارسودی کو دو خطوط بھی بھیجے تھے جن میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ سعودی آجر اور ان کا بیٹا ان کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔

اسی بارے میں