سمندر غیر محفوظ، اقدامات ناکافی، اقوام متحدہ کو تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپی یونین کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز سے اب تک 700 غیر قانونی تارکین وطن کو بچایا جا چکا ہے

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یواین ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کی زندگیاں بچانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں۔

یواین ایچ سی آر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لیبیا کے ساحل کے قریب سمندر میں ڈوب جانے والی کشتی میں سوار چار سو افراد کا ابھی تک کوئی اتہ پتہ نہیں۔

لیبیا کے ساحل محافظوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اس ہفتے اسی راستے سے مزید لوگ سمندر پار کرنے کی کوشش کریں گے۔

سو کے قریب تارکینِ وطن کو بحفاظت آج کسی وقت سلسلی پہنچایا جائے گا۔

گذشتہ جمعے سے اب تک آٹھ ہزار کے قریب تارکینِ وطن کو مختلف کشتیوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچایا جا چکا ہے اور اطلاعات کے مطابق بہت سی کشتیوں میں سوار ہزاروں تارکینِ وطن اب بھی اطالوی بندرگاہوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اطالوی وزارتِ داخلہ نے ملک کی تمام بندرگاہوں پر حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے آنے والے تارکینِ وطن کی رہائش کے لیے بندوبست کریں، جن میں بڑی تعداد عورتیں اور بچے کی بھی ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پانچ سو کے قریب غیر قانونی تارکینِ وطن اس سال کے آغاز سے اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد گذشتہ سال میں اس عرصے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سے 30 گنا زیادہ ہے۔

گذشتہ سال مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر شام کے بحران کی وجہ سے دو لاکھ 80 ہزار افراد یورپی یونین میں شامل ممالک میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کا کہنا ہے کہ تقریباً 400 غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ لیبیا سے آنے والی کشتی کے غرق ہونے سے مر گئے۔

سیو دی چلڈرن کے مطابق اٹلی کی کوسٹ گارڈ نے 144 افراد کو بچا لیا ہے اور بچائے جانے والے افراد نے ان کو ڈوبنے والوں کی تعداد بتائی ہے۔

اٹلی کی کوسٹ گارڈ نے فضائی اور بحری ریسکیو آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔

امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والوں میں زیادہ تعداد نوجوان مردوں کی ہے اور ان میں ممکنہ طور پر بچے بھی شامل ہیں۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز سے اب تک 700 غیر قانونی تارکین وطن کو بچایا جا چکا ہے۔

بچ جانے والے افراد کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب لیبیا سے روانہ ہونے والی کشتی، جس میں 550 افراد سوار تھے، ایک دن بعد ہی ڈوب گئی۔

سیو دی چلڈرن اٹلی کے مچل پروسپیری نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کشتی میں سوار نوجوان مردوں کی صحیح تعداد معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’موسم اچھا ہونے کے باعث غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔‘

پچھلے سال سے یورپی یونین نے ریسکیو آپریشن میں کمی کی ہے کیونکہ کچھ کا یہ کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے باعث غیر قانونی تارکین وطن کو یہ حوصلہ ملتا ہے کہ وہ سفر اپنائیں۔

دوسری جانب یورپی یونین کی فرونٹیکس سرحدی فورس کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے لیے پہنچنے والی کوسٹ گارڈ کی کشتیوں کو دور رکھنے کے لیے انسانی سمگلروں نے ہوائی فائرنگ کی۔

اسی بارے میں