ہیگ میں لبنانی صحافی پر مقدمہ

کارما خیات تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کارما خیات پر الزام ہے کہ انھوں نے گواہوں کے نام نشر کر کے عدالت کی توہین کی ہے

ہالینڈ کے شہر ہیگ میں سابق لبنانی وزیرِ اعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والا اقوامِ متحدہ کا حمایت یافتہ ٹریبیونل ایک لبنانی صحافی پر بھی مقدمہ چلا رہا ہے۔

کارما خیات اور ان کے ٹی وی سٹیشن الجدید پر الزام ہے کہ انھوں نے گواہوں کی تفصیلات بتا کر عدالت کی توہین کی ہے۔

ٹی وی سٹیشن نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھے گا۔

جن پانچ افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے رفیق حریری کا قتل کیا تھا، وہ اب تک مفرور ہیں اور ان پر ان کی غیر موجودگی میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

14 فروری 2015 کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں رفیق حریری اور 21 دوسرے افراد اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ان کے قافلے پر ایک انتہائی طاقتور بم سے حملہ کیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ نے ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے ایک سپیشل ٹریبیونل فار لبنان (ایس ٹی ایل) قائم کیا تھا۔ پانچوں مشتبہ افراد جو ابھی تک مفرور ہیں ان کا تعلق شدت پسند شیعہ تنظیم حزب اللہ سے بتایا جاتا ہے۔

دی ہیگ میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار اینا ہولیگن کے مطابق جمعرات کو ٹریبیونل نے کچھ منٹ کی کارروائی کے بعد نجی سیشن شروع کر دیا۔

ایسا وکلائے صفائی کے ان الزامات کے بعد کیا گیا کہ استغاثہ نے کارروائی سے ایک دن پہلے ایک نئی شہادت کا انکشاف کیا تھا جس کی وجہ مقدمے کی کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ کارما خیات اور الجدید نے گواہوں کے نام نشر کیے ہیں جس کی وجہ سے ان گواہوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے کیونکہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کی شناخت نہیں ظاہر کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹریبیونل سابق لبنانی وزیرِ اعظم کے قتل کی تحقیقات کر رہا ہے

کارما خیات نے کہا کہ فہرست اس طرح تیار کی گئی تھی کہ گواہوں کی شناخت ناممکن ہو جائے لیکن یہ ضرور بتایا گیا تھا کہ ٹریبیونل سے بھی معلومات افشا ہونے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد دوسری نامعلوم پارٹیوں نے گواہوں کی پوری فہرست شائع کر دی۔

کارما خیات نے عدالت پر الزام لگایا کہ وہ لبنانی میڈیا کو خاموش کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ مستقبل میں ٹریبیونل پر تنقید نہ کرے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عدالت میں میرا کردار کارما خیات کا دفاع کرنا نہیں ہے اور نہ ہی الجدید کا دفاع کرنا ہے، کسی چیز کے دفاع کی ضرورت نہیں، ہمارا مقدمہ بڑا مضبوط ہے۔‘

’میں یہاں آزادیِ اظہار اور پریس کی آزادی کے دفاع کے لیے موجود ہوں۔‘

اسی بارے میں