’ایک چوتھائی ایشیائی ووٹرز مخمصے کا شکار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سروے میں شامل 85 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ ووٹ دینے کا فیصلہ امیدوار کی نسل یا رنگ کی بنیاد پر نہیں کریں گے

بی بی سی کے ایک سروے کے نتائج کے مطابق برطانیہ میں بسنے والے ایشیائی ووٹروں میں سے ایک چوتھائی تاحال نہیں جانتے کہ وہ عام انتخابات میں کس جماعت کو ووٹ دیں گے۔

بی بی سی ایشین نیٹ ورک اور آئی سی ایم کے اس جائزے میں جن افراد سے رائے لی گئی جن میں سے 39 فیصد نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ فی الوقت کسی ایک جماعت کو ووٹ دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں لیکن عین ممکن ہے کہ وہ سات مئی سے قبل اپنا فیصلہ بدل لیں۔

سروے کے دوران 25 مارچ سے دو اپریل کے درمیان انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ میں ایسے 500 افراد سے بات کی گئی جنھوں نے خود کو ایشیائی ظاہر کیا۔

جن افراد سے بات کی گئی ان میں سے نصف برطانیہ میں امیگریشن کے قوانین سخت کرنے کے حامی دکھائی دیے۔

جائزے سے پتہ چلا کہ 24 فیصد افراد تاحال یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ میں عمومی طور پر لیبر پارٹی کا حامی سمجھا جانے والا ایشین ووٹ اس الیکشن میں مختلف نتیجہ دے سکتا ہے۔

برطانیہ میں 2010 کے انتخابات کے بعد سے ’ایشیائی ووٹ‘ کا معاملہ دلچسپی کا باعث ہے کیونکہ اس الیکشن میں لیبر پارٹی نے نسلی اقلیتوں کے 68 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ٹوری پارٹی صرف 16 فیصد ایسے ووٹ لے سکی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 2010 کے الیکشن میں لیبر پارٹی نے نسلی اقلیتوں کے 68 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ٹوری پارٹی صرف 16 فیصد ایسے ووٹ لے سکی تھی

اس کے بعد سے کئی جائزوں میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ اقلیتی ووٹ ایسی نشستوں پر نتائج میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں جہاں دونوں جماعتوں کا کڑا مقابلہ ہوتا ہے۔

کچھ ایشیائی ووٹروں کے لیے ووٹ دینے کے معاملے میں پارٹی کی وفاداری کے مقابلے پر ذاتی پسند ناپسند زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔

ساؤتھیمپٹن میں ایک ریڈیو سٹیشن کے مینیجر رام کلیان کا کہنا ہے کہ ’میں ایسا ووٹر ہوں جس نے ابھی فیصلہ نہیں کیا۔ روایتی طور پر ہمارا خاندان لیبر پارٹی کو ووٹ دیتا ہے لیکن میں فی الوقت نہیں جانتا کہ اس بار بھی یہی ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں انتظار کر رہا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کے سربراہ کیا ایجنڈا پیش کرتے ہیں اور اس کے بعد ہی میں فیصلہ کروں گا۔‘

ایشیائی نژاد وکیل راشد الاسلام کا کہنا ہے کہ بات اس پر ختم ہوگی کہ آخر میں ہماری جیب میں کیا آئے گا: ’مجھے اس حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے زیادہ رقم کمانے کا موقع ملا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو ووٹ دینے کے معاملے میں فیصلہ کن ہو گی۔‘

سروے میں شامل 85 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ ووٹ دینے کا فیصلہ امیدوار کی نسل یا رنگ کی بنیاد پر نہیں کریں گے۔

راشد الاسلام نے بھی کہا کہ ’میں کسی شخص کو صرف اس لیے ووٹ نہیں دوں گا کہ وہ ایشیائی ہے۔ میں تو اس کی پالیسیاں دیکھوں گا اور ماضی میں اس کی کارکردگی پر نظر ڈالوں گا۔‘

اسی بارے میں