’نائجیریا میں ہلاکتوں کی ممکنہ وجہ کیڑے مار ادویات‘

تصویر کے کاپی رائٹ MSF
Image caption عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ پراسرار بیماری میں مبتلا افراد میں 13 سے 15 اپریل کے دوران علامات ظاہر ہوئی

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ نائجیریا کے جنوب مغربی علاقے میں 18 افراد کی پراسرار موت کی وجہ ممکنہ طور پر کیڑے مار ادویات تھیں۔

نائجیرین حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد ریاست اونڈو میں ہلاک ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والے افراد کو ابتدا میں دھندلا دکھائی دینے لگا، پھر ان کے سر میں درد ہوا ہے اور پھر وہ اپنے حواس کھو بیٹھے اور 24 گھنٹے میں ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس سلسلے میں لاگوس کے یونیورسٹی ٹیچنگ ہسپتال میں تجزیے کیے گئے۔

ڈبلیو ایچ او کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اب تک لیے جانے والے جائزوں میں کسی وائرل یا بیکٹریا کے انفیکشن کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایبولا وائرس سے متاثرہ 90 فیصد تک لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فی الوقت خیال یہی ہے کہ ان ہلاکتوں کا تعلق کیڑے مار دوا سے ہو سکتا ہے۔

تنظیم کے ترجمان گریگری ہرٹل نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ’تاحال یہی نتیجہ نکلا ہے کہ ان ہلاکتوں کی وجہ ہربیسائیڈز ہے‘۔

اس سے قبل عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ اس بیماری میں مبتلا افراد میں 13 سے 15 اپریل کے دوران علامات ظاہر ہوئی۔

یاد رہے کہ افریقی ممالک میں ایبولا وائرس سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق لائبیریا، سیئرالیون اور گنی میں ایبولا وائرس سے متاثر کی تعداد 20000 سے تجاوز کر گئی ہے اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک گنی ہے۔

ایبولا وائرس متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس سے ابتدا میں زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور بعد میں آنکھوں اور مسوڑھوں سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔ جسم کے اندر خون جاری ہو جانے سے اعضا متاثر ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں