تارکینِ وطن کے خلاف تشدد:307 افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption غیر ملکیوں کے خلاف دو ہفتوں سے جاری تشدد میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں

جنوبی افریقہ میں دوسرے علاقوں سے آنے والے تارکین وطن کے خلاف حملوں کے سلسلے میں 300 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وزیرِ داخلہ ملوسی جباگا نے ان حملوں کے لیے ذمہ دار لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

وزیر داخلہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تشدد کے سلسلے میں 307 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان بنائے رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت امن و قانون برقرار رکھنے کے لیے سخت قدم اٹھانے سے نہیں ہچکچائے گی۔

گزشتہ دو ہفتوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مسلح گروہوں نے افریقی تارکین وطن کی دکانوں کو نشانہ بنایا لوگوں کا الزام ہے کہ تارکین وطن مقامی باشندوں کی ملازمتیں چھین رہے ہیں۔

ہزاروں تارکین وطن اپنے گھر بار چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں ، زمبابوے اور موزامبیق چلے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے تشدد کے خاتمے کا عہد کیا ہے

ادھر جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے کہا ہے کہ غیر ملکیوں کے خلاف تشدد جنوبی افریقہ کی اقدار کے منافی ہے اور اسے یقینی طور پر ختم کیا جائے گا۔

یہ باتیں انھوں نے ڈربن میں غیر ملکیوں کے خلاف گذشتہ دو ہفتوں سے جاری تشدد کے واقعات کے بعد ایک پناہ گزین کیمپ کے دورے کے بعد کہی ہیں۔

تاہم وہاں موجود عوامی ہجوم میں بعض نے صدر پرسست روی کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے طنزیہ فقرے ادا کیے۔

خیال رہے کہ ڈربن میں غیرملکیوں کے خلاف حالیہ دنوں میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ تشدد کی لہر دوسرے علاقوں تک بھی پھیل رہی ہے۔

سنہ 1994 میں سفید فام اقلیت کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے افریقہ کے دوسرے ممالک اور ایشیا سے بڑی تعداد میں تارکین وطن جنوبی افریقہ منتقل ہوئے تھے۔

بہت سے جنوبی افریقہ کے باشندے غیرملکیوں پر ان کی ملازمت چھیننے کا الزام لگاتے ہیں کیونکہ ان کے ملک میں بے روزگاری کی شرح 24 فی صد ہے۔

صدر زوما نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’ہم جن چیزوں میں یقین رکھتے ہیں یہ حملے ان کے منافی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی اکثریت امن اور براعظم کے اپنے دوسرے بھائی بہنوں کے ساتھ اچھے روابط کو عزیز رکھتی ہے۔‘

صدر زوما نے اپنا انڈونیشیا کا دورہ منسوخ کر دیا اور انھوں نے ایک پناہ گزین کیمپ کا دورہ کیا۔ انھوں نے ٹی وی پر اپنے خطاب کے دوران کہا: ’ہم یقینی طور پر تشدد کو ختم کریں گے۔‘

تارکینِ وطن جو اپنے ملکوں کو واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں سے خطاب کرتے ہوئے صدر جیکب زوما نے کہا کہ جو اپنے گھر جانا چاہتے ہیں تشدد کے خاتمے کے بعد ان کی جنوبی افریقہ واپسی پر انھیں خوش آمدید کہا جائے گا۔

صدر زوما کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں چند لوگ یہ پریشانی پیدا کررہے ہیں۔

جنوبی افریقی خطے میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرن ایلن کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں نے صدر جیکب زوما کا مذاق اڑایا اور کہا کہ وہ جنوبی افریقہ کو خیرباد کہنا چاہتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں سے جاری غیر ملکیوں کے خلاف تشدد کے ضمن میں پولیس نے تقریبا ڈیڑھ سو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

کئی ہزار غیرملکی اپنا گھر بار چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں ہیں جبکہ پڑوسی ممالک زمبابوے، ملاوی اور موزمبیق کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption غیر ملکیوں کے خلاف تشدد ڈربن کے بعد دوسرے علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے

سنیچر کو زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے افریقی یونین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’اب ہم اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے کیونکہ ڈربن میں جو ہوا اس سے ہمیں نفرت ہے۔‘

سنیچر کو جوہانسبرگ کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے متعدد دکانوں پر حملہ کیا۔

پولیس نے شہر کے شمالی علاقے ایلکزینڈرا میں فسادیوں کو منتشر کرنے کے لیے ربر کی گولیاں چلائیں اور 30 سے زیاد افراد کو گرفتار کیا۔

زولو کنگ گڈول زویلیتھینی پر حملے کے لیے مشتعل کرنے کا الزام ہے کیونکہ انھوں نے کہا کہا تھا کہ غیرملکیوں کو ’اپنے ملک چلے جانا چاہیے۔‘ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کے پیش کیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں تقریبا 20 لاکھ افراد رہتے ہیں جو کہ ملک کی آبادی کا چار فی صد ہیں۔ لیکن بعض اعداد و شمار میں یہ تعداد 50 لاکھ بتائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں