’مکہ مدینہ پر حملے کا سوچ بھی نہیں سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حسین کے مطابق فضائی کارروائی کے باوجود حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کی پیش قدمی جاری ہے

حوثیوں کے نمائندے حسین البخیتی کا کہنا ہے کہ حوثی قبائل سعودی عرب میں مقدس مقامات پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، سعودی حکومت اور اس کے حامی یہ گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

حوثیوں کے خلاف عالمی میڈیا پر آنے والی خبروں کو سعودی عرب کا گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے حسین البخیتی نے کہا کہ حوثی مسلمان ہیں اور ان کی نظر میں حرمین شریفین کی اتنی ہی حرمت اور تقدس ہے جتنا کہ کسی اور مسلمان کی نظر میں۔

حسین البخیتی حوثیوں کی سیاسی جماعت انصاراللہ سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے صنعا سے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مکہ اور مدینہ پر حملے کا مفروضہ ایک بیمار ذہن کی اختراع ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستانی فوج کو تنازعے میں شامل کرنے کے لیے کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جیسے یمن نے سعودی عرب پر حملہ کر دیا ہو، لیکن ہم نے تو سعودی عرب کی جانب ایک گولی بھی نہیں چلائی اور یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ یمنی عوام سعودی حکومت کی جارحیت کا نشانہ بنے ہوں۔‘

حسین نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ سعودی عرب اس وقت یمن میں فضائی کارروائی کر رہا ہے جس میں عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں لیکن وہ اس کا ذمہ دار صرف سعودی حکومت کو سمجھتے ہیں، سعودی اور یمنی عوام میں دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جن پر اس حالیہ کارروائی سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

حوثیوں کے نمائندے کا کہنا تھا کہ سعودی عوام تو خود سعودی حکومت کے ظلم کا شکار ہیں۔

انھوں نے سعودی حکومت پر یمن میں القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کو اسلحہ فراہم کرنے کا بھی الزام لگایا: ’سعودی طیارے ایبن اور شبوا کے علاقوں میں القاعدہ کے لیے اسلحہ پھینک رہے ہیں۔‘

پاکستانی افواج کے ممکنہ طور پر سعودی اتحاد میں شامل ہونے کے سوال پر ان کا کہنا تھا: ’پاکستان کو سوچنا چاہیے کہ کون سے ممالک سعودی جاحاریت کی حمایت کر رہے ہیں؟ کیا امریکہ اور اسرائیل کو مکہ اور مدینہ کی فکر ہے؟ کیا سعودی عرب نے کبھی ایک گولی بھی فلسطینیوں کی حمایت میں چلائی ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام باشعور ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ سعودی عرب میں پاکستانیوں اور دیگر تارکینِ وطن کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

یمن میں رہنے والے پاکستانیوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں حسین کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستانی حکومت اپنی افواج سعودی عرب بھجوا بھی دیتی ہے تو اس سے یمنی اور پاکستانی عوام کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ فیصلہ شریف حکومت کا ہوگا نہ کہ پاکستانی عوام کا۔‘

حسین البخیتی نے یہ بھی واضح کیا کہ جو پاکستانی اپنی نوکریاں اور کاروبار چھوڑ کر چلے گئے ہیں وہ جب مناسب سمجھیں واپس آ سکتے ہیں حوثیوں سمیت تمام یمنی عوام ان کو خوش آمدید کہیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ حالیہ فضائی کارروائی سے حوثیوں کی فوجی طاقت کو کتنا نقصان پہنچا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کارروائی حوثیوں کے خلاف نہیں یمنی عوام کے خلاف کی جا رہی ہے۔ حوثی تو یمنی عوام ہیں، ہر گھر میں باپ بیٹے بھائی کی شکل میں موجود ہیں۔ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر انھیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘

حسین کے مطابق فضائی کارروائی کے باوجود حوثی اور ان کے اتحادیوں کی پیش قدمی جاری ہے اور عدن پر بھی جلد مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا۔

جنگ بندی کے بارے میں ان کا موقف تھا کہ جب تک سعودی حملے بند نہیں ہوں گے اس بارے میں پیش رفت نہیں ہو سکتی۔

اسی بارے میں