بہتر مستقبل کی خاطر زندگی داؤ پر

مالی کا شمال مشرقی شہر گاؤ کئی افریقی تارکین وطن کے لیے وہ دروازہ ہے جو انھیں صحرائے اعظم کے راستے یورپ میں داخل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

لیکن اس صحرا سے گزرنا اتنا ہی خطرناک ہے جتنا بحیرۂ روم کو عبور کرنا۔

یہاں ایک صحن میں کئی نوجوان افراد خاموشی سے بیٹھے ہیں۔

ان میں سے ہر کسی نے الجزائر تک پہنچنے کے لیے 400 امریکی ڈالر ادا کیے ہیں۔ وہ خوفزدہ اور پریشان لگ رہے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر یہاں بولی جانے والی فرانسیسی زبان بھی نہیں سمجھتے۔

ہر ماہ سینکڑوں افریقی مرد یورپ میں ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں گاؤ شہر سے گزرتے ہیں۔

بحیرۂ روم کے ساحل سے تقریباً 2000 کلومیٹر دور گاؤ صحرائے اعظم کی سرحد پر وہ آخری شہر ہے جہاں سے اس صحرا کا وہ خطرناک چھ روزہ سفر شروع ہوتا ہے جس نے کئی جانیں لی ہیں۔

انسانوں کی سمگلنگ سے منسلک 26 سالہ موسیٰ کا کہنا ہے کہ ’میرا اندازہ ہے کہ ان تارکین وطن میں سے صرف دس فیصد ہی اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔ لیکن میں اسے اس طرح سے سوچتا ہوں کہ آخر اس سفر کا انتخاب تو وہ خود ہی کرتے ہیں۔‘

موسیٰ کا کام جنوبی مالی سے آنے والی بسوں پر تارکین وطن کی نشاندہی کرنا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’گاؤ سے کوئی 20 کلومیٹر پہلے آپ بس پر سوار ہوتے ہیں اور سیٹوں کے درمیان چلنا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کو ابراہیم یا پھر کسی بھی مقامی نام سے کام چل سکتا ہے، جس کے بعد وہ مرد اپنے ہاتھ کھڑے کرتے ہیں اور آگے کے سفر میں ان لوگوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔‘

اور اپنے مالک کے پاس ایک شخص کو لے جانے کے موسیٰ کو دس امریکی ڈالر ملتے ہیں۔

ساردو میگا ایک مکینک ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ کرنے والے گروہ ان تارکین وطن کی تھکاوٹ اور راستوں سے ناواقفیت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ لوگ سفر کے دوران مر سکتے ہیں کیوں کہ اگر راستے میں کسی قسم کی مشکلات ہوں گی تو ڈرائیور ان کو صحرا میں ہی پھینک دیتے ہیں۔‘

26 سالہ تھیوڈو ونڈل ڈینس کا تعلق لائبیریا سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

وہ بتاتے ہیں کہ ’جب میں ایک ہفتہ قبل لائبیریا سے نکلا تھا تو میرے پاس 1100 ڈالر تھے لیکن اب کچھ بھی نہیں۔ میں سینیگال گیا تھا جہاں میں نے مراکش کے ٹکٹ کے لیے 400 ڈالر ادا کیے تھے لیکن وہ دھوکہ تھا۔ اس کے بعد انھوں نے مزید پیسے مانگے۔ پھر میں باماکو گیا اور وہاں سے الجزائر پہنچنے کے لیے پیسے ادا کیے۔

’مالی سے گزرتے ہوئے 15 سے 20 چیک پوسٹیں تھیں اور ہر جگہ پر مالی کی فوج آپ کو پیسوں کے لیے ہراساں کرتی ہے، اور اگر آپ ان کو پیسے نہ دیں تو وہ آپ کو بس سے اتار لیتے ہیں۔‘

’جب میں گاؤ پہنچا تو میرا بیگ، فون، باقی کے پیسے اور پاسپورٹ سب چوری ہو گیا۔ لیکن میں ہمت نہیں ہاروں گا۔۔ مجھے الجزائر میں نوکری تلاش کرنی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں یورپ جانا چاہتا ہوں، پیسے کمانے کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔ میں تعلیم یافتہ ہوں اور ہائی سکول گریجویٹ ہوں۔ میری والدہ بہت بوڑھی ہیں اور والد کا انتقال ہو چکا ہے اس لیے میرے لیے لائبیریا میں گزارہ مشکل تھا۔ میں خوفزدہ نہیں ہوں اور بس افریقہ سے نکلنا چاہتا ہوں۔ ‘

45 سالہ ابراہیم میہراٹا ’ڈیری بین‘ نامی ایک ہاسٹل چلاتے ہیں جہاں تارکین وطن کو پناہ دی جاتی ہے۔

اس ہاسٹل کو مالی میں ریڈ کراس اور رومن کیتھولک چرچ کی جانب سے مالی مدد ملتی ہے اور یہاں تقریباً 70 افراد کی رہائش کا بندوبست ہے۔

ابراہیم بتاتے ہیں کہ انھوں نے حال ہی میں یہاں زیادہ تر گیمبیا سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو دیکھا ہے۔

’ان میں سے کئی لیبیا میں جاری جنگ سے مایوس ہو کر واپس گاؤ آئے اور جب یہ واپس پہنچتے ہیں تو ان میں سے کئی مایوس اور بعض اوقات ذہنی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں۔‘

’تصور کریں کہ ایک شخص جو ایک سال سے اپنے گھر والوں سے دور ہے اور انھوں نے اس کے سفر کے لیے اپنے مویشی بیچ دیے ہوں اور اسے 800 سے 1000 ڈالر دیے ہوں لیکن اب اسے واپس جانا پڑ رہا ہو اور اس کے پاس ایک پیسہ نہ ہو۔ یہ شرمناک صورتحال ہے اور کسی کو بھی پاگل کرنے کے لیے کافی ہے۔‘

ابراہیم کا اندازہ ہے کہ ہر ماہ گاؤ کے راستے تقریباً 900 افریقی تارکین وطن ٹرکوں پر صحرائے اعظم کے راستے الجزائر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر افراد بسوں کے ذریعے شمال کی جانب نائجر یا لیبیا کا سفر کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ابراہیم بتاتے ہیں کہ ’یورپ تک پہنچنے کے لیے گاؤ کی اہمیت اس لیے ہے کیوں کہ یہاں سے صحرا کا سفر کم اور سستا ہے اور یہاں سے صحرا پار کرنے میں صرف پانچ سے چھ دن لگتے ہیں۔‘

ان کے اندازوں کے مطابق نائجیریا، کیمرون اور گیمبیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سے تعلق رکھنے والے نوجوان خطے کو ان طریقوں کے ذریعے چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ابراہیم خود بھی اپنا ملک چھوڑ کر پہلے تیونس اور آئیوری کوسٹ گئے تھے اور وہ اس حق میں ہیں کہ انسانوں کو ہجرت کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر گاؤ میں کوئی کاروبار کیا جا سکتا ہے تو وہ صرف تارکین وطن سے متعلق ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں