تارکین وطن کا بحران: ’شمالی یورپ کو زیادہ مدد کرنے کی ضروری ہے ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو کشتی ڈوبنے کا واقعہ اب تک کا سب سے مہلک واقعہ ہے

بحیرۂ روم میں اتوار کے دن 800 تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے کے بعدایک یونانی وزیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’یورپ کی عظیم طاقتوں‘ کو بحیرۂ روم میں ہونے والے بحران کی ذمہ داری لینی چاہیے۔

نائب وزیر دفاع کوستاس اسیچوس نے کہا کہ شمالی یورپ کو تارکین وطن کے بچاؤ اور پناہ کے لیے مزید کام کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 22 اپریل کو منعقد ہونے والے ایک ہنگامی یورپی یونین کے سربراہی اجلاس سے قبل یونان، اٹلی اور سپین ایک ہی مقصد پر کام کر رہے تھے۔

درین اثنا بدھ کی سبح کو اطالوی جزیرے لامیدیوسا میں 114 بچائے گئے تارکین وطن لائے گئے۔

اطالوی کوسٹ گارڈ کا کہنا تھا کہ یہ تار کین وطن لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے 72 کلو میٹر دور ایک شمالی علاقے سے بچائے گئے تھے۔

اطالوی کوسٹ گارڈ نے یہ بھی بتایا کہ تارکین وطن 48 گھنٹوں تک سمندر میں تیرتے رہے اور انھیں ایک ربڑ کی کشتی سے بچایا گیا تھا۔

بدھ کو تار کین وطن کی انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسواز ثریپو نے یہ کہا کہ امیر ممالک کو اگلے پانچ سال میں دس لاکھ شامی پناہ گزینوں کو رہنے کی اجازت دینی چاہیے تاکہ ایسے حادثے دوبارہ نہ پیش آئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بحیرۂ روم میں اتوار کے دن 800 تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے کے بارے میں تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں جس کے مطابق ’تارکینِ وطن کی کشتی کے کپتان نے کشتی کو ایک بچاؤ کے لیے آنے والے تجارتی جہاز سے غلطی سے ٹکرا دیا تھا۔‘

یہ بات اطالوی سرکاری استغاثہ نے کہی جن کے پاس کشتی کے کپتان کو گرفتار کر کے لایا گیا تھا۔ ان پر متعدد ہلاکتوں کے الزامات ہیں۔

اس کشتی کے حادثے کو اقوامِ متحدہ نے بحیرۂ روم میں سب سے مہلک حادثہ قرار دیا ہے۔

عالمی تنظیم برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ 2015 میں ہلاکتیں 30 گنا زیادہ ہیں گذشتہ سال اسی عرصے کے دوران اور بڑھ کر 30 ہزار تک پہنچ سکتی ہیں۔

اتوار کو ڈوبنے والی کشتی سے زندہ بچ جانے والے 28 افراد کو پیر کے دن جزیرہ سسلی لایا گیا۔

اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کشتی کے 27 سالہ تیونسی کپتان محمد علی مالک اور عملے کے رکن محمود بیکیت جو ایک 25 سالہ شامی ہیں کے گرفتار کے وارنٹ جاری کیے جیسے ہی کوسٹ گارڈز کی کشتی ساحل سے لگی۔

کپتان مالک پر الزام ہے کہ انہوں کشتی کو تباہ کیا اور اُن پر کئی قتل کے الزامات ہیں اور یہ کہ وہ اس سارے عمل میں ملوث ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد مالک بائیں جانب جو اس بدقسمت کشتی کے کپتان اور ان کے عملے کے رکن بیکیت جمعے کو عدالت کے سامنے پیش ہوں گا

بیکیت پر اس کے مقابلے میں تین گنا کم الزامات ہیں تاہم یہ الزامات ابھی تک کسی جج کی جانب سے نہیں لگائے گئے اور انہیں جمعے کے دن عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اطالوی حکام نے کہا ہے کہ اس کشتی کے ڈوبنے کی دو وجوہات ہیں ایک یہ کہ ’تارکینِ وطن کی کشتی بچاؤ کی کشتی کی جانب آنے کی کوشش کر رہی تھی جب وہ حادثاتی طور پر بڑے بحری جہاز سے ٹکرا گئ۔‘

دوسری وجہ حکام کے مطابق ’کشتی پر گنجائش سے زیادہ افراد کو سوار کرانا تھا جس کی وجہ سے کشتی الٹ گئی اور توازن قائم نہ رکھ سکی جب اسے غلط طریقے سے موڑا گیا اور اسی وجہ سے اس پر سوار تارکینِ وطن کا وزن ایک جانب ہوا اور کشتی ڈوب گئی۔‘

چیف پراسیکیوٹر گیوانی سلوی نے کہا کہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی وجہ تین منزلہ کشتی کے نچلی منزلوں پر لوگوں کو محتلف خانوں میں بند کر کے رکھا جانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تجارتی جہاز جو پرتگیزی ملکیت میں ہے کے کپتان پر الزام عائد نہیں کیا جا سکتا اور انہوں نے بتایا کہ بچ جانے والے افراد ’ابھی تک صدمے میں ہیں اور بہت تھکے ہوئے ہیں‘ جب سے انہیں کتانیہ لایا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان ایڈریان ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام 28 تارکینِ وطن کے انٹرویو کر لیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption 2015 میں اب تک 1700 سے زیادہ تارکین وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشتی پر سوار افراد میں سے 350 کے قریب کا تعلق اریٹریا سے جبکہ باقی کا تعلق شام، صومالیہت مالی، سینیگال، گیمبیا، آئیوری کوسٹ، ایتھیوپیا اور بنگلہ دیش سے ہے۔

2015 میں اب تک 1700 سے زیادہ تارکین وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب یونان میں دو شامی مردوں کو جنہیں ایک کشتی سے بچایا گیا جب وہ روڈز جزیرے کے قریب ساحل سے ٹکرا گئی تھی کو غیر قانونی نقل و حرکت کا الزام کا سامنا کرنا پڑے گا جس حادثے کے نتیجے میں 90 تارکینِ وطن میں سے 3 ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں