لیبیا میں انسانوں کے سوداگر کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انسانی سمگلر وہ اہم کڑی ہیں جنھیں یورپی حکام نشانہ بنانے کی خواہش رکھتے ہیں

یورپی ممالک بحیرۂ روم میں ڈوبنے والے لاتعداد تارکین وطن کو روکنے کے لیے اپنی سی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ کون لوگ ہیں جو انھیں اس خطرناک سفر پر بھیجتے ہیں؟

انسانی سمگلر وہ اہم کڑی ہے جسے یورپی حکام نشانہ بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے انھیں جرائم کے ایک پیچیدہ جال کا سامنا ہے جو سرحدوں پر یقین نہیں رکھتا۔

لیبیا میں کوسٹ گارڈ حکام کا خیال ہے کہ انسانی سمگلر اٹلی میں منظم طور پر جرائم پیشہ افراد کے ساتھ روابط بڑھا رہے ہیں۔

گیامپاؤلو مسیمی نے دنیا بھر میں انسانی سمگلروں کے ساتھ دو سال سفر کیا اور ایک برقی کتاب ’کنفیشنز آف اے پیپل سمگلر‘ مشترکہ طور پر لکھی۔

وہ لیبیا میں ایک مصری سمگلر سے ملے جس نے 15 برسوں میںکشتیوں کے ذریعے اٹلی بھیجنے کا وسیع نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔اس سمگلر کا کہنا تھا کہ محفوظ راستہ فراہم کرنا اس کے اپنے مفاد میں ہے۔

گیامپاؤلو مسیمی بی بی سی کو بتایا کہ اس کا پیغام تھا: ’میں اپنے صارفین کو مرتا نہیں دیکھنا چاہتا کیونکہ میرے کام کی بنیاد میری ساکھ ہے۔ اپنے کریئر کے آغاز میں مجھے گاہکوں کی تلاش تھی، اب میں ایک بڑا سمگلر ہوں اور تحفظ کے حوالے سے میری ساکھ کی وجہ سے لوگ میرے پاس آتے ہیں۔‘

کاروبار بلاشبہ پھل پھول رہا ہے۔ اس سال ریکارڈ 35،000 تارکین وطن یورپ پہنچ چکے ہیں۔ گیامپاؤلو مسیمی کا اندازہ ہے کہ بحیرہ روم میں سمگلنگ کے کاروبار سے سالانہ 30 سے 60 کروڑ یورو کمائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے نووارد اس جانب مائل ہو رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’لیبیا میں بہت زیادہ گاہک ہیں، ان کے پاس اپنی زندگیوں کو سمگلروں کے حوالے کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ چنانچہ سمگلر اپنی سروس کا معیار کم کرسکتے ہیں۔ انھیں اپنی ساکھ قائم رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ صرف منڈی کے مطابق ہے، اگر منڈی میں طلب ہے تو آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیبیا میں کوسٹ گارڈ حکام کا خیال ہے کہ انسانی سمگلر اٹلی میں منظم طور پر جرائم پیشہ افراد کے ساتھ روابط بڑھا رہے ہیں

1980 کی دہائی سے لیبیا نے معاش کی تلاش میں افریقہ بھر نے تارکین وطن کو اپنی جانب راغب کیا تھا۔، لیکن اب اس کا کردار تبدیل ہو چکا ہے۔

یورپ کی سرحدی ایجنسی فرونٹیکس کا کہنا ہے کہ بہت سے اصل تارکین وطن اب لیبیا میں جرائم پیشہ گروہوں اور وطن ترک کرنے والے افراد کے درمیان رابطے قائم کروانے والے بن چکے ہیں۔

ایک بار یہاں پہنچنے کے بعد اکثر ان سے ان کے پاسپورٹ چھین کر انھیں سمگلروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔

گیمبیا سے تعلق رکھنے والے علی کو بھی ایک غیرمحفوظ کشتی میں سوار کروادیا گیا تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’لیبیائی شخص نے ہم سے جھوٹ بولا۔ اس نے کہا تھا کہ بڑی کشتی ہے۔ ہم سب نے ایک ہزار دینار (728 ڈالر) دیے تھے۔ جب کشتی آئی تو اس نے ہمیں بندوق سے دھمکا کر اس پر سوار کر دیا۔ اگر آپ اس پر سوار نہ ہوں تو وہ آپ کو گولی مار دے گا، چنانچہ اس پر ضرور سوار ہوں۔‘

لیبیا کے حکام شاذ و نادر ہی انسانی سمگلروں کو روکتے ہیں۔ طرابلس کے کوسٹ گارڈ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس امر کی تسلیم کیا کہ وہ کشتیوں کی اتنی بڑی تعداد پر قابو نہیں پا سکتے اور صرف اسی صورت میں دخل اندازی کرتے ہیں جب کوئی کشتی کسی مشکل کا شکار ہو جائے۔

لیبیا کا بیشتر حصہ حکومت کے زیرانتظام نہیں ہے اور یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ مقامی ملیشیا کے سمگلروں کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔

اطالوی اخبار لا رپبلیکا نے مبینہ طور پر اطالوی پولیس کو حاصل ہونے والی طرابلس میں مقیم ایک سمگلر کی ٹیلی فونک گفتگو شائع کی ہے۔

پولیس کی جانب سے ریکارڈ کی گئی اس گفتگو میں اریٹیریا سے تعلق رکھنے والے میرد میدھانی ایک دوسرے سمگلر سے آٹھ ہزار تارکین وطن کو ایک کشتی کے ذریعے اٹلی بھیجنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

ریکارڈنگ میں اس سمگلر نے کہا: ’میں ہمیشہ بہت زیادہ لوگ بھیجتا ہوں، لیکن یہ وہی (تارکین وطن) ہیں جو جلد از جلد جانا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے والوں کے پاسپورٹ چھین کر انھیں سمگلروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا تھا

گیامپاؤلو مسیمی کہتے ہیں کہ ایک عام مغالطہ ہے کہ سمگلر کشتی بان یا مچھیرے ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وہ کاروباری افراد ہیں۔ وہ چالاک ہیں۔ ایک سمگلر کے بارے میں تصور کیجیے جو کبھی نہیں سوتا اور 24 گھنٹے یورپ میں داخل ہونے کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ وہ اخبار پڑھتے ہیں، یورپی قوانین کا مطالعہ کرتے ہیں، فرونٹیکس کی نقل و حرکت کے بارے میں پڑھتے ہیں، اور ہوسکتا ہے کہ وہ یہ مضمون بھی پڑھیں۔‘

ان کا خیال ہے کہ تارکین وطن کی مایوسی اور اس کے ساتھ منسلک سمگلروں کا مالی فائدہ اس کو ایک بے قابو مسئلہ بنا دیتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں اٹلی کی ایک جیل میں ایک سمگلر سے ملا تو اس نے مجھے کہا، تم کبھی نہیں رک سکتے، تم کبھی بھی تارکین وطن کو نہیں روک سکتے۔‘

گیامپاؤلو مسیمی کا کہنا ہے: ’جب حکومت راہداریاں بند کرتی ہے تو کاروبار مزید بڑھ جاتا ہے، کیونکہ سفر لمبا اور مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ آپ اسے روک نہیں رکتے، آپ کو اس کی نگرانی کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں