یمن کی طرف’ایرانی‘ اور امریکی بحری جہاز روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ دیگر جہازوں سے ملنے کے لیے خلیج سے یمن کے قریب بحیرہ عرب کا سفر کر رہا ہے

یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے ایک ایرانی بحری بیڑے کی روانگی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد امریکہ یمن کی سمندری حدود میں اپنا گشت بڑھانے کے لیے ایک طیارہ بردار جہاز بھیج رہا ہے۔

امریکہ نے ایران کو حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے سے خبردار کیا ہے لیکن ایک امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا جہاز ایرانی بحری بیڑے کو نہیں روکے گا۔

امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے اس خطے میں سات کشتیاں دیکھی ہیں اور اس کا جہاز بھیجنے کا مقصد بحری راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔

یاد رہے کہ یمن میں حوثی باغی اور حکومت کے حامی ملک کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ یمنی صدر منصور ہادی کو حوثی باغیوں نے ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

باغیوں کو عدن کے جنوبی ساحلی شہرسے نکالنے کے لیے سعودی قیادت کی جانب سے فضائی حملے کیے جاثرہے ہیں۔

ان فضائی حملوں میں امریکہ حصہ نہیں لے رہا ہے لیکن وہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی مدد اسلحہ اور انٹیلیجینس معلومات فراہمی سے کر رہا ہے۔

امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ‘ اور میزائل بردار جہاز ’یو ایس ایس نارمینڈی‘ دیگر جہازوں سے ملنے کے لیے خلیج سے یمن کے قریب بحیئرہ عرب کا سفر کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری بحران کی وجہ سے 150,000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق خطے میں مزید امریکی جہاز بھی ہیں جن میں دو جنگی جہاز، دو بارودی سرنگوں کو صاف کرنے والے جہاز اور سمندر سے زمین پر فوجی اترانے والے تین جہاز بھی شامل ہیں۔

لیکن فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکی اہلکار نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ کہیں ایرانی بحری جہاز حوثی باغیوں کے لیے اسلحہ نا لےکر جا رہا ہو۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس وقت قیاس آرائی کرنا قبل از وقت ہے۔

سعودی عرب کے سنی حکمران نے علاقائی حریف شیعہ ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حوثیوں کی مدد کر رہا ہے، جو زیدی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایران نے حوثیوں کی مدد کرنے کی تردید کی ہے۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ نے حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کو ہتھیار فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن کے بحران نے 150,000 افراد کو بے گھر کر دیا ہے اور تقریباً ایک کروڑ دو لاکھ افراد کو خوراک کی کمی درپیش ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ مارچ اور اپریل کے درمیان تین ہفتوں میں 731 افراد ہلاک اور 275 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر شہری تھے۔

اسی بارے میں