یمن میں سعودی عرب اور اتحادیوں کی بمباری کی مہم اختتام پذیر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اتحادیوں نے تقریباً ایک مہینے تک یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے کیے

سعودی عرب کی سرکردگی میں یمن میں باغیوں کے خلاف بمباری کا آپریشن اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

سعودی سرکاری ٹی وی کے مطابق اتحادی افواج کے آپریشن ’ڈیسائیسیو سٹورم‘ نے اپنے فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں اور اب ایک نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔

اس نئے آپریشن کا نام آپریشن ’ریسٹورنگ ہوپ‘ ہے جس کا مقصد اس مسغلے کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے اور سعودی عرب میں سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے کام پر توجہ دینا ہے۔

سعودی سرکردگی میں اتحادیوں نے تقریباً ایک مہینے تک یمن پر حملے کئے مگر حوثی باغیوں کی پیش قدمی کو موثر طور پر روکنے میں ناکام رہے۔

یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیے جانے کے بعد سے بے چینی ہے۔

حوثی جو زیدی شیعہ ہیں نے جنوری میں صدر ابراہیم منصور ہادی کو اُن کے صدارتی محل میں نطر بند کر دیا تھا جس کے بعد صدر ہادی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے فروری میں عدن میں پناہ حاصل کی۔

تاہم بعد میں مارچ کے مہینے میں وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے جب حوثی باغیوں اور ان کی مدد کرنے والی سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حامی افواج نے ساحلی شہر کی جانب پیش قدمی شروع کی۔

سعودی اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العصیری نے ریاص میں ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ کہ ’اتحادیوں نے آپریشن ’ڈیسائیسیو سٹورم‘ حتم کر دیا ہے جو یمنی حکومت اور صدر ابراہیم منصور ہادی کی درخواست پر کیا گیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کی سرکردگی میں فضائی حملوں کا نشانہ حوثی باغیوں کو بنایا گیا جنہوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مہم منگل کی رات کو ختم ہو جائے گی کیونکہ باغی اب عام شہریوں کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

انہوں نہ یہ بھی کہا کہ ’یہ اہداف بہت اچھی منصوبہ بندی، اس پر تیر بہدف عملدرآمد اور ہمارے پائلٹس، بحریہ کے سپاہیوں اور فوجیوں کی بہادری کے باعث حاصل کیے گئے۔‘

جنرل عصیری نے بتایا کہ نئے آپریشن ریسٹورنگ ہوپ کا مقصد باغیوں کے مقابلے کے ساتھ ساتھ یمن کی تعمیرِ نو ہے تاہم انہوں نے مزید حملوں کے امکان کو رد نہیں کیا۔

سعودی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس فضائی حملوں کی مہم نے سعودی عرب اور اس کے ہمسایہ ممالک کی سکیورٹی کو لاحق خدشات کو بھاری مشینری اور بیلاسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کے نتیجے میں دور کر دیا ہے۔

سعودی عرب نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان حوثی باغیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے مگر تہران اس الزام سے انکار کرتا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسنا خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ایران فضایی حملوں کے خاتمے کو خوش آئند سمجھتا ہے اور یہ کہا کہ ’ہم نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ یمن کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور بلا شک جنگ بندی اور معصوموں اور نہتے افراد کی ہلاکتوں کے خاتمے کا فیصلہ ہی درست اور آگے بڑھنے والا ہے۔‘

منگل کو تازہ فضائی حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق 30 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت سویلین کی تھی۔

مغربی شہر ایب سے شہریوں اور سکیورٹی حکام نے بتایا کہ 20 افراد تب ہلاک ہوئے جب حوثی باغیوں کے ایک قافلے پر ایک پل پر حملہ کیا گیا جبکہ نو مزید افراد سعودی سرحد کے قریب شہر ہراد میں ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں