سیکس پارٹیوں میں شرکت پر امریکی ایجنسی کی سربراہ مستعفیٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مشیل لیون ہارٹ سنہ 2007 سے ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کی سربراہ ہیں اور ان پر گذشتہ ہفتے سے مستعفی ہونے کا دباؤ تھا

امریکہ میں منشیات کی روک تھام کے ادارے ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی (ڈی ای اے) کی سربراہ مشیل لیون ہارٹ اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئی ہیں۔

اُن کا استعفیٰ کا فیصلہ محکمے کے حکام کی جانب سے سیکس پارٹیوں میں شرکت کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے۔

ان کے ریٹائرمنٹ کا اعلان اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کیا۔

یہ فیصلہ امریکہ کی وزارت انصاف کی جانب سے گذشتہ ماہ پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں الزام لگایا گیا تھا منشیات کی روک تھام کرنے والے ایجنٹوں نے ایسی پارٹیوں میں شرکت کی جن میں جنسی پیشہ ور خواتین شامل تھیں اور ان میں سے بعض پارٹیاں منشیات کی مقامی مافیا نے بیرون ممالک منعقد کروائیں۔

وفاقی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کولمبیا میں پیش آیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سات ایجنٹوں کو دو سے دس دن معطلی کی سزا ہوئی جبکہ ایک کو الزامات سے بری قرار دیا گيا

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مشیل لیون ہارٹ پر گذشتہ ہفتے سے مستعفی ہونے کا دباؤ تھا۔

خیال رہے کہ انھوں نے گذشتہ ہفتے ایک کانگریس کمیٹی کے سامنے اس واقعے کا اعتراف کیا تھا اور اس کے بعد کمیٹی کے بیشتر ارکان نے کہا تھا کہ اب انھیں لیون ہارٹ پر اعتماد نہیں رہا۔

مسٹر ہولڈر نے کہا: ’مشیل نے اس مخصوص ادارے کی وقار کے ساتھ سربراہی کی اور میں انھیں قومی سلامتی اور شہریوں کو جرم، استحصال اور ناجائز سلوک سے محفوظ رکھنے کے معاملے میں اپنا شریک کار کہتا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ مشیل لیون ہارٹ مئی کے وسط میں ایجنسی کو خیرباد کہہ دیں گی۔

وزارت انصاف کی رپورٹ کے مطابق سیکس پارٹیاں سرکاری عمارتوں میں ہوئیں جہاں ڈی ای اے کے ایجنٹوں کے فون اور لیپ ٹاپ موجود تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈی ای اے کے تفتیش کاروں نے ان الزامات کو رپورٹ نہیں کیا کیونکہ انھیں یہ گمان نہیں تھا کہ ’سپیشل ایجنٹوں کا طرز عمل سکیورٹی کے لیے خطرہ کا باعث ہو سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ DEA
Image caption ڈی ای اے امریکہ میں منشیات کی روک تھام کا ادارہ ہے

رپورٹ میں کہا گیا کہ بہت سے ایجنٹوں کو پیسے، قیمتی تحفے اور اسلحہ بھی دیا گیا۔

ایک ڈی ای اے کے اہلکار نے تفتیش کاروں کو بتایا: ’جسم فروشی مقامی ثقافت کا حصہ ہے اور اسے بعض علاقوں میں ’ٹالرینس زون‘ کے طور پر برداشت کیا جاتا ہے۔‘

جن سات ایجنٹوں نے سیکس پارٹیوں میں شرکت کا اعتراف کیا انھیں دو سے دس دنوں تک معطل کیے جانے کی سزا دی گئی۔ ایک شخص کو ان الزامات سے بری قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ یہ تفتیش سنہ 2012 کی رپورٹ کے بعد کانگریس کے کہنے پر شروع کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ خفیہ ایجنٹوں نے کولمبیا میں ہونے والی سربراہ کانفرنس کے دوران صدر کی حفاظت کے دوران طوائفیں بلوائی تھیں۔

اسی بارے میں