ابھی تو پارٹی شروع ہوئی تھی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب سعودی وزارتِ دفاع نے اعلان کردیا ہے ملک کو لاحق خطرہ ٹل گیا ہے

یہ تو بہت اچھا ہو گیا کہ سعودی قیادت میں خلیجی فوجی اتحاد نے یک طرفہ جنگ یک طرفہ طور پر روک دی۔ مگر یہ کون بتائے کہ کیوں روک دی گئی جبکہ اقوامِ متحدہ ، عرب لیگ ، امریکہ ، برطانیہ اور متعدد مسلمان ممالک نے بھی یہ کہتے ہوئے دستِ تعاون بڑھا دیا تھا کہ سعودی اتحاد جو کر رہا ہے ٹھیک کر رہا ہے۔

( ابھی تو پارٹی شروع ہوئی تھی۔۔۔۔)

لگ بھگ ایک ماہ پہلے یمن پر پہلا بم پھینکتے ہوئے کہا گیا تھا کہ سعودی مملکت بالخصوص مقاماتِ مقدسہ کو لاحق خطرے کو غیر موثر بنانا ہے، صدر منصور ہادی کی جائز حکومتی رٹ بحال کرانی ہے اور حوثی قبائلیوں کو دارالحکومت صنعا اور بندرگاہ عدن سمیت تمام علاقوں سے پیچھے دھکیلنا ہے جن پر انھوں نے گذشتہ ستمبر سے غیرقانونی قبضہ کر رکھا ہے۔

مگر اب سعودی وزارتِ دفاع نے یکایک اعلان کر دیا کہ ملک کو لاحق خطرہ ٹل گیا ہے ، باغیوں کی مسلح کمر ٹوٹ گئی ہے اور جو اہداف حاصل کرنے تھے ہو گئے ہیں۔ لہٰذا اب آپریشن فیصلہ کن طوفان ختم اور آپریشن بحالیِ امید شروع۔

یعنی مذاکرات ، یمن کی تعمیرِ نو اور وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔

یہ کارروائی، جس میں لگ بھگ ایک ارب ڈالر کے خرچے سے کم ازکم پانچ سو سے زائد یمنی ’ہلاک‘ اور درجن سے بھی کم سعودی ’شہید‘ ہوئے۔ سعودی شہدا کے ورثا کو تو سرکار کی طرف سے ایک ایک ملین ریال مل جائیں گے، یمنیوں کو کیا ملے گا؟ آخر یہ بارودی مشق کسے دکھانے، بتانے، جتانے کے لیے تھی؟

بمباری روکے جانے سے دو روز قبل صدر اوباما اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان جو ٹیلی فونک گفتگو ہوئی کیا یہ اس کا چمتکار تو نہیں؟

یا سعودی عرب کو بھی لگنے لگا کہ بمباری کا زیادہ زمینی فائدہ صدر ہادی منصور یا خود سعودیوں کے بجائے یمنی القاعدہ کو ہو رہا ہے۔ القاعدہ کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے کے بعد پچھلے تین ہفتے میں اس نے نہ صرف ایک جیل تڑوا کے اپنے سینکڑوں حامی آزاد کروا لیے بلکہ ایک اور صوبے (حدرموت) تک اپنا اثر و نفوذ پکا کر لیا۔

یا سعودی قیادت بالآخر اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ صدر ہادی منصور کے وفادار دستوں میں دم خم نہیں اور وہ چلے ہوئے کارتوس ہیں۔ چنانچہ مزید لاحاصل کارروائی سے بہتر ہے کہ مہمان صدر کو جدہ کے سرور پیلس منتقل ہونے کا مشورہ دیا جائے جو ان دنوں خالی پڑا ہے۔

(اہلِ جدہ عیدی امین مرحوم ، سوڈان کے اپوزیشن لیڈر عثمان المرغانی، تیونس کے معزول صدر زین العابدین بن علی اور نواز شریف کے ناموں سے تو پہلے ہی اچھے سے واقف ہیں)

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی وزارتِ دفاع نے اعلان کردیا ہے کہ باغیوں کی مسلح کمر ٹوٹ گئی ہے

یا اس مہم جوئی کا مقصد امریکہ کو جتانا تھا کہ اب خلیجی ریاستیں اتنی عاقل بالغ ہوگئی ہیں کہ اپنے فیصلے خود کر سکیں۔

یا اصل ہدف یہ تھا کہ غریب یمن کی پٹائی کر کے ایران کو بتایا جائے کہ بھائی صاحب ذرا سنبھل کے، اب بہت ہو گیا۔ (ایسی سچویشن کے لیے کہاوت ہے: ’بیٹی کو پیٹو تاکہ بہو الف ہو جائے‘)

یا اس جنگی ورزش کا مقصد سعودی عرب کے تیل سے مالامال مشرقی صوبوں کی شیعہ اقلیت کو پیغام دینا تھا کہ کسی کے بہکاوے میں آنے سے پہلے دس بار سوچ لینا۔ یا پھر عام سعودی رعایا پر ثابت کرنا تھا کہ شاہی حکومت کو ہلکا مت لینا۔ آج بھی ویسا ہی دم خم ہے۔۔۔

یا پھر سعودی عرب کے لیے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کے دعوےدار دوستوں کی آزمائش مقصود تھی۔ (مجھے آج تک سمجھ میں نہیں آیا کہ آخرسب خون کا آخری قطرہ ہی کیوں بہانا چاہتے ہیں؟ پہلا قطرہ کون بہائے گا؟)

یا سارا جوکھم یوں اٹھایا گیا کہ بیکار بیٹھنے سے بہتر ہے کہ لگے ہاتھوں وہ مہنگے مہنگے ہتھیار ہی ٹیسٹ کر لیے جائیں جو ریاستی دبدبے کے زنگ سے پاک شو کیس میں پڑے پڑے برسوں سے اونگھ رہے ہیں۔

یا پھر حوثیوں، ایران اور سعودی قیادت کے درمیان امریکہ اور اومان سمیت کسی بچولیے وغیرہ کی مدد سے کوئی درپردہ وٹا سٹا ہو گیا کہ یوں اچانک بمبار اڑانیں روک دی گئیں؟

جو بھی مقصد یا مقاصد ہوں گے ان میں کم از کم یہ ہدف شامل نہیں تھا کہ اسرائیل کو کوئی فالتو کی چیتاونی دی جائے۔

اگر سعودی عرب کے بعد اس جنگ بندی کی سب سے زیادہ خوشی ہے تو یقیناً پاکستانی حکومت کو ہے۔ ساتھ ہی یہ جھنجھلاہٹ بھی دامن گیر ہوگی کہ اگر جنگ ایسی اور اتنی ہی ہونی تھی تو خواہ مخوا پارلیمنٹ کو بیچ میں ڈالنے اور خلیجی بھائیوں کو خفا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

مگر مختلف شہروں میں تحفظِ حرمین شریفین کے لیے جلوس نکالنے والوں اور ’بچہ بچہ کٹ مرے گا‘ ٹائپ بیانات دینے والے احباب کو مایوسی ہوئی ہو گی۔

حالانکہ ان چیتوں کا جذبہِ قربانی خاکسار تحریک کے ان بیلچہ برداروں سے کچھ کم نہیں جو اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد لاہور کی مال روڈ پر دو قطاروں میں پریڈ کرتے ’لبیک یا فلسطین‘ پکارتے چلے جا رہے تھے کہ کسی منچلے نے باآوازِ بلند مشورہ دیا: ’اے بیڈن روڈ ولوں ہو لئو، ایتھوں اسرائیل نیڑے پئو گا۔‘

اسی بارے میں