ایچ ایس بی سی کا صدر دفتر برطانیہ سے منتقل کرنے پر غور

Image caption ایچ ایس بی سی یعنی ہانگ کانگ اینڈ شنگھائی بینکنگ کارپوریشن برطانیہ سے صدر دفتر باہر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے

ایچ ایس بی سی کا کہنا ہے کہ وہ اپنا صدر دفتر برطانیہ سے باہر منتقل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

بینک کا کہنا ہے کہ یہ نظرثانی مالیاتی بحران کے بعد برطانیہ میں ’ریگولیٹری اور انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات‘ کے بعد کی گئی۔

ایچ ایس بی سی کا کہنا ہے کہ ’اس کے بورڈ نے اپنی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ صدر دفتر کے لیے موجود حالات میں سب سے بہتر مقام کی جائزہ لے۔‘

’یہ سوال ایک بہت پیچیدہ سوال ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس پر کتنا وقت لگے گا اور اس کا حتمی نتیجہ کیا ہو گا مگر اس پر کام جاری ہے۔‘

ایچ ایس بی سی نے ابھی تک اس جگہ کا اعلان نہیں کیا ہے جہاں یہ منتقلی ہو گی مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ ان جگہوں میں سرِفہرست ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے ہانگ کانگ بے شک اتنا بڑا ہے اور ایچ ایس بی سی کے ہانگ کانگ کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں مگر اگر وہ 2015 میں برطانیہ میں رہتا ہے تو اسے کئی لاکھ ڈالر مزید ٹیکس دینا پڑے گا تاہم برطانیہ سے جانے کی صورت میں اسے کئی کروڑ ڈالر کا خرچ کرنا پڑے گا۔

اور بینکنگ تجزیہ کار ایلکس پورٹر کا کہنا ہے کہ ’چینی حکومت کے اقدامات کے بارے میں برطانوی حکومت کی نسبت پیشین گوئی کرنا مشکل ہو گا۔‘

بینک کے بارے میں حالیہ انکشافات کے بعد ریگولیٹری دباؤ، سیاسی حملے اور نئے ٹیکسوں کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنے کی نوبت آئی۔

بینک کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانیہ کے کے یورپی یونین میں غیر یقینی مستقبل بھی ایک وجہ ہے جس کے باعث یہ فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔