روس میں تین خواتین کو قابل اعتراض رقص پر سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ سزائیں ایسے وقت سنائی گئی ہیں جب روس دوسری جنگِ عظیم کی فتح کی 70ویں سالگرہ منانے کی تیاریاں کر رہا ہے( فائل فوٹو)

روس کی ایک عدالت نے تین خواتین کو دوسری عالمی جنگ کی یادگار کے سامنے قابل اعتراض ڈانس کرنے پر قید کی سزا دی ہے۔

ان خواتین پر الزام ہے کہ انھوں نے جو کیا وہ ’گھٹیا شُہدے پن اور آوارگی‘ جیسا تھا۔

نووروسیاسک کی عدالت نے حکم دیا کہ تین میں سے دو رقاصاؤں کو دس روز تک جیل میں قید رکھا جائے۔

تیسری رقاصہ کو 15 دن جیل میں قید رکھے جانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ دو ڈانسروں کو ُشہدے پن اور آورگی کے جرم میں جرمانے کی سزا دی گئی ہے۔

استغاثے کا کہنا تھا کہ خواتین کا’ہوس انگیز ڈانس‘ تاریخ کی یادگار کے احترام کے منافی تھا جسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اس ماہ کے شروع میں روسی اہلکاروں نے انٹرنیٹ پر اسی قسم کے رقص کی ایک وڈیو سامنے آنے کے بعد ڈانس سکھانے والے ایک سکول کو بند کر دیا تھا۔

روس میں ڈانس پر خواتین کو سزا سنائے جانے والے اس تازہ واقعہ میں چھ رقاصائیں ملوث ہیں جن میں سے ایک کم عمر ہے جس کی وجہ سے وہ سزا سے بچ گئی۔ ان رقاصاؤں نے یوٹیوب پر رقص کی وڈیو بھی پوسٹ کی تھی۔

استغاثے کے وکلا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’جنگ کی تاریخ کے تقدس کو پامال کرنے والا یہ واقعہ یا روس کی فوجی شانِ شوکت کی بے حرمتی کی کوششوں کو بغیر کسی تاخیر کے روک دیا جائے گا۔‘

یہ سزائیں ایسے وقت سنائی گئی ہیں جب روس دوسری جنگِ عظیم کی فتح کی 70ویں سالگرہ منانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

اپریل کے شروع میں اورینبرگ کے ایک ڈانس سکول کی وڈیو کو لاکھوں مرتبہ یو ٹیوب پر دیکھا گیا تھا۔

اس وڈیو کلپ میں 19 سال کی عمر تک کی لڑکیاں سٹیج پر دھاری دار تنگ جامے، لمبے موزے اور مِنی سکرٹ پہن کر ڈانس کرتی دیکھی جا سکتی تھیں۔

ایک روسی کمیٹی اس بات کی تحقیق کر رہی ہے کہ ان لڑکیوں نے جس طرح کا رقص کیا آیا وہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے یا ’عیاشی و اوباشی اور اخلاق بگاڑنے‘ والا عمل تھا۔ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ لڑکیوں کا رقص عیاشی کی حدود میں آتا ہے تو اس کی پاداش میں انھیں کمیونٹی سروس سے لے کر تین سال قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں