انڈونیشیا میں اپنے شہریوں کی سزائے موت پر آسٹریلیا برہم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقامی وقت کے مطابق بدھ کی صبح سزا پر عمل کرتے ہوئے نوساكمبگان جزیرے پر موجود جیل میں فائرنگ دستے نے ان آٹھ لوگوں کو گولی مار دی

انڈونیشیا میں منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں دو آسٹریلوی شہریوں سمیت آٹھ افراد کو موت کی سزا دے دی گئی ہے جس پر احتجاج کرتے ہوئے آسٹریلیا نے انڈونیشیا سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

سزائے موت پانے والے افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے اور مقامی وقت کے مطابق بدھ کی صبح سزا پر عمل کرتے ہوئے نوساكمبگان جزیرے پر موجود جیل میں فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی گئی۔

موت کی سزا پانے والے آٹھ افراد میں آسٹریلوی شہری اینڈریو چن اور میئون سکوماران بھی شامل تھے۔

ادھر برازیل نے بھی اپنے ایک شہری روڈریگو گولارٹر کو پھانسی کی سزا دیے جانے پر’گہرے افسوس‘ کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب اس معاملے میں فلپائن کی ایک خاتون مجرم کی موت کی سزا کو آخری وقت پر روک دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption پھانسی سے قبل رشتے داروں کو ملنے کی اجازت دی گئی تھی

ان کی ماں نے اس آخری لمحات کی معافی کو ’کرشمہ قرار دیا اور فلپائن ریڈیو سٹیشن ڈی زیڈ ایم ایم سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم لوگ بہت خوش ہیں۔ ہمیں یقین ہی نہیں ہو رہا۔ مجھے یقین ہی نہیں ہو رہا کہ اب میری بچی زندہ رہے گي۔‘

اطلاعات کے مطابق فلپائن کی صدر کی جانب سے جاری اپیل کے نتیجے میں اس خاتون کی سزا روکی گئي ہے۔

آسٹریلیا نے چن اور میئون سکوماران کو بچانے کے لیے طویل سفارتی مہم چلائي تھی۔ ان دونوں کو منشیات کی سمنگلنگ کے آسٹریلوی گروپ ’بالی نائن‘ کے سرغنہ کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور انھیں سنہ 2006 میں سزا سنائی گئی تھی۔

آسٹریلوی صدر ٹونی ایبٹ نے کہا ’اب انڈونیشیا کے ساتھ ایک قریبی اتحادی کے طور پر تجارت نہیں ہو سکتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فلپائن کی شہری کی معافی پر منیلا میں جشن کا ماحول نظر آيا

انھوں نے مزید کہا کہ یہ پھانسیاں بہیمانہ اور غیرضروری ہیں کیونکہ چن اور میئون سکوماران قید میں ’پوری طرح سدھر گئے تھے۔‘

ادھر برازیل کی حکومت نے پھانسی کو انڈونیشیا کے ساتھ تعلقات میں ’سنگین واقعہ‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چن اور میئون سکوماران کو سنہ 2006 میں سزا سنائی گئی تھی

برازیل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انڈونیشیا نے برازیل کی صدر دلما روسیف کی ہمدردی اور معافی کی اپیل کے متعلق سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

آسٹریلیا اور برازیل کے علاوہ پھانسی دیے جانے والوں میں گھانا کے مارٹن اینڈرسن، انڈونیشیا کے زین العابدین بن محمود بدرالدین، نائجیریا کے رحیم اگباجے سلامی کے ساتھ سلوسٹر اوبیکوے نولائیز اور اوکووڈیلی اویاتانزے شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عالمی سطح پر ان لوگوں کی سزا کو معاف کرنے کی اپیل کی گئی تھی

ان کے علاوہ فرانس کے سرج اریسکی ایٹلوئی کے ساتھ فلپائن کی میری جین فیئسٹا ویلسو کی سزا پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔

انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں منشیات کے خلاف قانون بہت سخت ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں حق بجانب ہیں کیونکہ ملک کو منشیات سے متعلق مسائل درپیش ہیں۔

انڈونیشیا میں انسداد منشیات کے قومی ادارے کے مطابق منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہر روز 33 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نشہ آور ادویات کی سمگلنگ کے خلاف سخت ترین قوانین موجود ہیں اور یہاں موت کی سزا پر عملدرآمد کی چار سالہ پابندی کو 2013 میں ختم کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں