تاوان بھی ادا کیا رہائی بھی نہ ملی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وارن وان سٹین کو سنہ دو ہزار گیارہ میں اغوا کیا گیا تھا

امریکہ کے تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے 2012 میں امریکی یرغمالی وارن وان سٹین کو القاعدہ کی قید سے چھڑانے کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالر تاوان کی ادائیگی میں ان کے خاندان والوں کی مدد کی تھی۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے حال ہی میں ڈرون حملے میں ہلاک ہونے امریکی شہری وارن وان سٹین کے خاندان والوں نے القاعدہ کو ڈھائی لاکھ ڈالر تاوان کی مد میں ادا کیے تھے لیکن پھر بھی ان کی رہائی ممکن نہیں ہو سکی۔

اخبار کے مطابق وارن وان سٹین کے معاملے میں ایف بی آئی کا کردار امریکی حکومت کی اغوا کاروں کو کسی قسم کا تاوان نہ ادا کرنے کی پالیسی کے مطابق نہیں تھا۔

وارن وان سٹین کو سنہ 2011 میں اغوا کیا گیا تھا اور اس سال جنوری میں القاعدہ کی تحویل میں وہ ایک اطالوی یرغمالی کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں سی آئی اے کے ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ایف بی آئی نے ایک پاکستانی جو وارن وان سٹین کے خاندان والوں اور القاعدہ کے درمیان رابطے کا کام کر رہا تھا اس کی توثیق کی تھی اور اسی شخص کے ذریعے تاوان کی رقم پشاور بھجوائی گئی تھی۔ ڈھائی لاکھ ڈالر کی یہ رقم سو سو ڈالرکے نوٹوں کی صورت میں بھیجی گئی تھی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ ایف بی آئی کے اہلکاروں نے تاوان ادا کرنے کی اجازت یا منظوری نہیں دی تھی بلکہ انھوں نے خاندان والوں کی حفاظت کی خاطر اہم معلومات فراہم کی تھیں۔

وارن وان سٹین کے خاندان کے ایک ترجمان نے کہا کہ انھوں نے حکومتی اہلکاروں سے جن کا اکثر ایسے معاملات سے واسطہ پڑتا رہتا ہے مشورہ کیا تھا۔ انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی تمام تر کوششیں رائیگاں گئیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کے حکام نے وارن وان سٹین کے خاندان والوں کو خبردار کر دیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ تاوان کی ادائیگی کے باوجود ان کی رہائی ممکن نہ ہو سکے۔ ایف بی آئی نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وارن وان سٹین کی رہائی کی یہ صورت باقی ممکنہ متبادل طریقوں سے کم خطرناک ہے۔