تائیوان اور چین کے مابین چھ سال بعد مذاکرات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین اور تائیوان سنہ 1949 میں چین کی خانہ جنگی کے دوران الگ ہو گئے تھے تاہم چین تائیوان کو اپنا حصہ تصور کرتا ہے

تائیوان کی حکمران جماعت کے رہنما ایرک چو اور چین کے صدر شی جِن پِنگ نے گذشتہ چھ سالوں میں پہلی بار اعلیٰ سطح پر بات چیت کی ہے۔

تائیوان کی حکمران جماعت کے چیئرمین ایرک چو ان دنوں بیجنگ کے دورے پر ہیں اور ان کے اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی گرم جوشی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ چین کے قوم پرست رہنما سنہ 1949 میں کمیونسٹوں کے ساتھ خانہ جنگی کے بعد تائیوان بھاگ گئے تھے۔

یہ دونوں ممالک سنہ 1949 میں چین کی خانہ جنگی کے دوران الگ ہو گئے تھے تاہم چین تائیوان کو اپنا حصہ تصور کرتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق چین کا یہ موقف رہا ہے کہ تائیوان اس کا ایک علیحدہ ہو جانے والا صوبہ ہے جسے بالآخر چین میں ہی واپس آنا ہے، تاہم تائیوان کے متعدد باشندے چین سے الحاق کے مخالف ہیں اور وہ اس بات پر فکر مند ہیں کہ تائیوان کا چین پر ضرورت سے زیادہ اقتصادی انحصار اس جانب پہلا قدم ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا کے مطابق شی جن پنگ نے ایرک چو کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ چین اور تائیوان کو مذاکرات کے ذریعے اپنے سیاسی اختلافات کو حل کرنا چاہیے تاہم اس سے پہلے تائیوان کو یہ مان لینا چاہیے کہ وہ چین کا حصہ ہے۔

چینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ بیجنگ تائیوان کو اقتصادی طور پر ترقی دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

شی جِن پِنگ نے کہا فریقین کو برابری اور ’ایک چین‘ کے اصول کے تحت مشورہ کرنا چاہیے۔

تائیوان کی حکمران سیاسی جماعت کیومنتانگ (کے ایم ٹی) کی مقبولیت تنزلی کی جانب گامزن ہے اور اسے چین کی کمیونسٹ جماعت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔

تائیوان میں گذشتہ برس سینکڑوں طلبہ نے کے ایم ٹی اور چین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کے خلاف کئی ہفتوں تک پارلیمان پر قبضہ کر لیا تھا اور ہزاروں افراد نے اس معاہدے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا تھا۔

اسی بارے میں