’جرمن پائلٹ شاید جان بوجھ کر جہاز کو نیچے لے کر گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Andreas Lubitz
Image caption آندریاز لوبٹز پر الزام ہے کہ انھوں نے جان بوجھ مسافر جہاز کو گرایا تھا اور اس کے نتیجے میں جہاز میں موجود 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے

جرمنی کے اخبار بلڈ کا کہنا ہے کہ فرانس میں رواں برس مارچ میں تباہ ہونے والے جرمن مسافر طیارے کے معاون پائلٹ آندریاز لوبٹز شاید جہاز کو جان بوجھ کر تیزی سے نیچے کی جانب لے کر گئے تھے۔

جرمن اخبار نے فرانس کے تفتیش کاروں کے حوالے سے بتایا کہ معاون پائلٹ آندریاز لوبٹز اس واقعے سے ایک روز پہلے بھی جہاز کو تیزی سے نیچے کی جانب لے کر گئے تھے۔

واضح رہے کہ آندریاز لوبٹز پر الزام ہے کہ انھوں نے جان بوجھ مسافر طیارے کو گرایا تھا اور اس کے نتیجے میں جہاز میں موجود 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فرانسیسی حکام اس مسافر طیارے کے تباہ ہونے کی عبوری رپورٹ بدھ کو شائع کریں گے۔

جرمنی کے اخبار بلڈ نے فرانسیسی تفتیش کاروں کے قریبی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ معاون پائلٹ آندریاز لوبٹز نےبغیر کسی تکنیکی وجہ کے مسافر جہاز کو نیچے اتارنا شروع کر دیا تھا۔

اس سے پہلے تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ آندریاز لوبٹز نے پائلٹ بننے سے کئی سال قبل خودکشی کرنے کے رجحانات پائے جانے پر نفسیاتی علاج یا سائیکو تھراپی کروائی تھی۔

اس سے قبل جرمنی میں استغاثہ کا کہناتھا کہ معاون پائلٹ نے اپنی بیماری کی تفصیلات کو ایئرلائن سے چھپایا تھا۔

اسی بارے میں