حزب اللہ کا النصرہ فرنٹ کو نشانہ بنانے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حسن نصر اللہ کے مطابق النصرہ فرنٹ کے حملوں نے لبنان کی سکیورٹی کے لیے ایک ناقابلِ قبول خطرہ پیدا کر دیا ہے

لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے قائد حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کے جنگجو شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف برسرِپیکار النصرہ فرنٹ کو نشانہ بنائیں گے۔

حسن نصر اللہ کے مطابق حزب اللہ ان سنّی جنگجوؤں پر قالعمون کے سرحدی علاقے میں حملے کرے گی تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کارروائیاں کب کی جائیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ شام کی مسلح باغی قوتیں جو کہ سرحد پار لبنان میں حزب اللہ کو بھی وقتاً فوقتاً نشانہ بناتی رہی ہیں، ایک ’ناقابلِ قبول خطرہ‘ ہیں۔

حزب اللہ شام کی موجودہ حکومت کی حامی ہے اور وہاں جاری خانہ جنگی میں اس کے سینکڑوں جنگجو صدر بشار الاسد کی حامی افواج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔

حسن نصر اللہ نے قالعمون کے جس علاقے میں حملے کرنے کا اعلان کیا ہے وہ شام اور لبنان کی سرحد پر واقع ہے اور وہاں سرحد کی نگرانی کا موثر نظام موجود نہیں ہے۔

منگل کو ٹی وی پر اپنے خطاب میں حسن نصر اللہ نے کہا کہ سرحد پار سے القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے شدت پسندوں کے حملوں نے لبنان کی سکیورٹی کے لیے ایک ناقابلِ قبول خطرہ پیدا کر دیا ہے جس کا ’فوری علاج‘ ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’(لبنانی) حکومت اس معاملے سے نمٹنے کے قابل نہیں اس لیے ہم ضروری کارروائی کریں گے اور اس عمل کی ذمہ داری اور نتائج قبول کریں گے۔‘

انھوں نے اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا کہ حزب اللہ یہ کارروائی کب شروع کرے گی تاہم ان کا یہ ضرور کہنا تھا کہ ’جب بھی ہم کارروائی کا آغاز کریں گے ہم کوئی بیان جاری نہیں کریں گے بلکہ کارروائی خود اس کا منہ بولتا ثبوت ہوگی۔‘

گذشتہ برس شامی حکومت کی فوج نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد سے ایک بڑا حملہ کر کے شام اور لبنان کے سرحدی علاقے کا بڑا حصہ النصرہ اور دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے قبضے سے چھڑوا لیا تھا۔

تاہم اس کے باوجود شامی باغیوں کے حملوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے اور منگل کو بھی ایسی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد مغوی جن میں فوجی اور پولیس اہلکار شامل ہیں اس سرحدی علاقے میں باغیوں کے پاس اب بھی موجود ہیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے لبنان میں پہلے سے موجود سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں