دولت اسلامیہ کے چار رہنماؤں پر دو کروڑ ڈالر انعام

تصویر کے کاپی رائٹ US State Dept
Image caption دولت اسلامیہ نے مشرقی شام اور شمالی عراق کے بہت بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے

امریکہ نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے چار رہنماؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر مجموعی طور پر دو کروڑ ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کیا ہے۔

ان چار رہنماؤں میں سے ایک طارق الحارزی ہیں جن کی خود کش بمباروں کے سربراہ کے طور پر شناخت کی جاتی ہے۔

دوسرے رہنما ابو محمد الادانی ہیں جن کے بارے میں معلومات پر انعام کا اعلان کیا گيا ہے۔ ابو محمد دولت اسلامیہ کے باضابطہ ترجمان ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’دولت اسلامیہ اجتماعی پھانسیوں، قتل عام، ظالمانہ کارروائیوں، غارت گری، ریپ اور بچوں کے قتل کے لیے ذمہ دار ہے۔‘

خیال رہے کہ جہادی تنظیم دولت اسلامیہ نے مشرقی شام اور شمالی عراق کے بہت بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں ’خلافت‘ کے قیام کا اعلان کر رکھا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے اس نے اپنے خطے میں قیدی خواتین کو غلام بنا کر رکھا ہے، وہ مذہبی بنیاد پر قتل و غارت گری کے مرتکب ہیں اور انھوں نے قیدیوں کو قتل کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ابوبکر البغدادی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر پہلے سے ہی ایک کروڑ امریکی ڈالر کا انعام ہے

اس سے قبل امریکہ نے دولت اسلامیہ کے سربراہ اور خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر علیحدہ سے ایک کروڑ ڈالر کی انعامی رقم رکھی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق منگل کو اعلان کیے جانے والے انعام کا تعلق انصاف پروگرام سے ہے۔

منگل کو امریکی وزارت خارجہ نے عبدالرحمٰن مصطفیٰ القدولی کے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے 70 لا کھ کے انعام کا اعلان کیا۔

ان کے علاوہ ابو محمد الادانی اور ترخان تیمورازووچ بتراشولی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 50، 50 لاکھ امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

طارق بن الطاہر الحازری پر 30 لاکھ امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قدولی عراق میں القاعدہ دھڑے کے سربراہ ابو مصعب زرقاوی کے نائب تھے اور وہ سنہ 2012 میں جیل سے رہائی کے بعد دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے شام پہنچے تھے۔

اسی بارے میں