یمن کا غیرملکی افواج سے زمینی کارروائی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یمنی حکومت نے کہا ہے کہ حوثی باغی عدن میں ہر حرکت کرنے والی چیز کو نشانہ بنا رہے ہیں

یمن کی حکومت نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں حوثی باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے غیر ملکی افواج کی زمینی مداخلت کی منظوری دے۔

اقوام متحدہ میں یمن کے مشن نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ممبران کے نام خط میں زمینی افواج کی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’عالمی برادری یمن بالخصوص عدن اور طیعز کو حوثی باغیوں سے بچانے کے لیے زمینی افواج بھیجے۔‘

یمن کی حکومت کا سلامتی کونسل کے ارکان کے نام خط ملک میں غیر ملکی افواج کی زمینی مداخلت کا قانونی جواز مہیا کرے گا۔

سعودی عرب کی سربراہی میں عرب ممالک کے اتحاد نے جب 26 مارچ کو یمن میں فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں اس وقت بھی یمنی حکومت نے اقوام متحدہ سے اسی طرح کی منظوری طلب کی تھی۔

یمنی حکومت نے انسانی حقوق کے اداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ نہتے یمنی باشندوں کے خلاف وحشیانہ کارروائیوں کا ریکارڈ اکٹھا کرے۔

یمنی حکومت نے کہا کہ وہ ہر ممکن کوشش کرے گی کہ حوثی باغیوں کو جنگی جرائم کے ارتکاب کی سزا مل سکے۔

اقوامِ متحدہ میں یمن کے مندوب خالد الایمانی کی جانب سے سلامتی کونسل کے 15 ممبران کو بھیجے گئے خط میں ملک کے جنوبی شہر عدن کی بندرگاہ کےقریب ایک کشتی پر حوثی باغیوں کی گولہ باری کےنتیجے میں کم سے کم 32 افراد کے ہلاک ہونے کا ذکر کیاگیا ہے۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ کشتی پر سوار افراد لڑائی سے جان بچا کر بھاگ رہے تھے کہ حوثی باغیوں نے انھیں نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یمنی حکومت نے انسانی حقوق کے اداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ نہتے یمنی باشندوں کے خلاف وحشیانہ کارروائیوں کا ریکارڈ اکٹھا کرے۔

یمنی حکومت نے کہا ہے کہ حوثی باغی عدن میں ہر متحرکت چیز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ عدن میں حوثی باغیوں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کے حامی مسلح افراد کے درمیان التواحی پر کنٹرول کے لیے لڑائی جاری ہے۔

یہ وہ علاقہ ہے جہاں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کا حامی ٹی وی چینل واقع ہے۔

التوحی کے رہائشیوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا سعودی اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں کی مدد سے باغیوں کے حملے کو پسپا کر دیاگیا تاہم اس حملے میں کم سے کم 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں دس ممالک پر مشتمل اتحادی یمن کے صدر ہادی کو ان کے عہدے پر بحال کرنا چاہتے ہیں تاہم انھیں ابھی تک کامیابی نہیں ملی ہے۔

ہادی فروری میں دارالحکومت صنعا سے فرار ہو کر عدن چلے گئے تھے تاہم جب حوثی مارچ کے آخر میں عدن پہنچے تو وہ سعودی عرب چلے گئے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اس کے بعد سے اب تک لڑائی میں 640 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں۔

عالمی امدادی اداروں نے یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے شہریوں کی سلامتی کے بارے میں دوبارہ خدشات ظاہر کیے ہیں جبکہ 20 سے زیادہ عالمی امدادی اداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ یمن میں ایندھن کی قلت کی وجہ سے ان کا کام رک سکتا ہے۔

اسی بارے میں