امریکہ نے شامی باغیوں کی تربیت دینی شروع کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ کے مطابق تقریباً چار ہزار رضاکاروں نے خدمات پیش کی تھیں جن میں سے چار سو کا انتخاب کیا گیا ہے

امریکہ نےشدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا مقابلے کرنے کے لیے اردن میں شامی باغیوں کے ایک تنظیم کو عسکری تربیت دینا شروع کر دی ہے۔

امریکہ وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ امریکہ اگلے تین برسوں میں 15 ہزار ایسے جنگجوؤں کی تربیت کا منصوبہ رکھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ سے تربیت حاصل کرنے والے باغی جنگجوؤں کو دولت اسلامیہ سے مقابلہ کرنا ہے نہ کہ بشار الاسد حکومت سے۔ البتہ وزیر دفاع نےاس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ اگر ان جنگجوؤں نے شام کی سرکاری افواج کے ساتھ لڑنا شروع کر دیا تو امریکہ کا موقف کیا ہو گا۔

وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا کہ 90 افراد کو اردن میں ایک محفوظ مقام پر تربیت دی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا جلد ہی اسی طرح کے مزید جنگجوؤں کی اردن، ترکی، قطر اور سعودی عرب میں تربیت شروع کی جائے گی۔ دورانِ تربیت ان جنگجوؤں کو امریکہ تنخواہ ادا کرے گا۔

وزیر دفاع نے میدان جنگ میں ان باغیوں کی مدد کرنے کے بھی امکان کو رد نہیں کیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ قریباً چار ہزار رضاکاروں نے اپنی خدمات پیش کی تھیں لیکن انھوں نے صرف 400 لوگوں کا انتخاب کیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ تربیت کے دوران ان جنگجوؤں کو بتایا جائےگا کہ وہ دورانِ جنگ عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔

پینٹاگون نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ جنگجو تربیت حاصل کرنے کے بعد کب میدان جنگ میں اتریں گے۔

اسی بارے میں