’ماحولیاتی تبدیلی اقوامِ متحدہ کا ڈھکوسلہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’اقوامِ متحدہ نے ماحولیاتی تبدیلی کو نیو ورلڈ آرڈر پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے بطور سہارا استعمال کیا ہے‘

آسٹریلوی وزیرِ اعظم کے مشیر کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اقوامِ متحدہ کی جانب سے ڈھکوسلہ ہے۔

مورس نیومن کا کہا ہے کہ آب و ہوا کے زیادہ تر ماڈل غلط ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے بہت کم شواہد موجود ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ نے ماحولیاتی تبدیلی کو نیو ورلڈ آرڈر پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے بطور بہانہ استعمال کیا ہے۔

تاہم نیومن کے اس تبصرے کو موسمیاتی سائنس دانوں نے مسترد کر دیا ہے۔ وزیر برائے ماحولیات گریگ ہنٹ کا کہنا تھا کہ ’میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گا۔‘

ایک پریس کانفرنس میں نیومن کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ہنٹ کا کہنا تھا کہ ’ہر ایک کو اپنے خیالات کے اظہار کی اجازت ہے۔‘

فی کس آبادی کے لحاظ سے آسٹریلیا کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے ملکوں میں ہوتا ہے۔

آسٹریلیا میں مخلوط حکومتوں کی موسمیاتی تبدیلیوں پر شکوک وشبہات کی ایک پوری تاریخ ہے۔

اقوامِ متحدہ کہنا ہے کہ اس بات پر مضبوط سائنسی اتفاقِ رائے موجود ہے کہ دنیا بھر میں موسم تبدیل ہو رہا ہے اور اس میں انسانی سرگرمیوں کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔

سیاسی ایجنڈا

نیومن وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کے کاروباری مشیر اور سابقہ آسٹریلوی سٹاک ایکسچینج کے صدر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسٹریلیا میں مخلوط حکومتوں کی موسمیاتی تبدیلیوں پر شکوک وشبہات کی ایک پوری تاریخ ہے

انھوں نے ایک آسٹریلین اخبار کے لیے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’یہ ایک راز ہے اور 95 فیصد جو ماحولیاتی ماڈل ہمیں بتائے گئے ہیں اس میں کہا گیا ہے کہ انسانوں کی جانب سے گیسوں کے اخراج اور تیزی سے بڑھتی ماحولیاتی تپش میں تعلق دیکھا گیا ہے، لیکن گذشتہ دو دہائیوں سے درجہ حرارت میں جمود سے یہ بات غلط ثابت ہو رہی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گذشتہ 50 سالوں سے عوام کو نامعقول عمل کی وجہ سے موسم میں شدت کی وجہ سے شکار بنایا ہوا ہے اور موسمی اداروں کا جانب سے ان کے اعداد و شمار کے مطابق یکساں بے کار پیش گوئیوں کو ہضم کر لیا گیا ہے۔‘

نیومن نے بتایا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے موضوع سائنٹیفک کام کا جائزہ لینے والا پینل ’مسلسل مصنوعی طریقوں کے استعمال کی وجہ سے بے نقاب ہو چکا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ سالانہ اربوں ڈالر موسمیاتی تبدیلوں کی لاحاصل پالیسیوں پر خرچ کر رہی ہے۔ اصل ایجنڈا سیاسی کنٹرول ہے، گلوبل وارمنگ ایک بہانہ ہے۔‘

یونیورسٹی آف میلبرن سے موسمیاتی تبدیلی کے ماہر پروفیسر ڈیوڈ کارولے کا کہنا تھا کہ نیومن کے اس تبصرے میں موسمیاتی تبدیلی پر کی گئی کوئی بھی تحقیق یا تجزیہ شامل نہیں ہے۔‘

پروفیسر کارولے نے کہا کہ ’یہ صاف ظاہر ہے کہ وہ آسٹریلوی عوام کو جان بوجھ کر گمراہ کر رہے ہیں۔‘

وہ نیومن کے آرٹیکل کے بارے میں آسٹریلین پریس کونسل میں شکایت جمع کرانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

اسی بارے میں