بڑے بت جو گر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اسے ایک نسل میں برطانیہ کا سب سے زیادہ ناقابلِ پیشن گوئی الیکشن کہا جا رہا ہے اور یہ واقعی تھا بھی۔ تمام رات ایسے نتائج سامنے آتے رہے جن کو سن کر بہتوں کو دھچکہ ضرور لگا ہو گا۔ کئی جانے پہچانے نام اپنی نشستیں ہار گئے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں۔

ایڈ بالز، لیبر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ بالز کی شکست پارٹی کے لیے بڑا دھچکہ ہے

شیڈو چانسلر ایڈ بالز مارلی اینڈ آؤٹ وڈ کی نشست اپنے کنزرویٹو حریف سے ہار گئے ہیں۔ انھیں 18,354 ووٹ ملے جبکہ ان کے مخالف کو 18,776 ووٹ پڑے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی ذاتی طور پر مایوسی ملک میں لیبر کے برے نتائج کے ’صدمے کے سامنے‘ اور مستقبل کے متعلق تشویش کے حوالے سے کچھ بھی نہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگلے پانچ سال کے متعلق انھیں بہت تشویش ہے لیکن ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں لیبر کا ممبر پارلیمان ہونے پر بھی فخر رہا ہے۔ ’مجھے یقین ہے کہ لیبر واپس آئے گی۔‘

ونس کیبل، لیبرل ڈیموکریٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کیبل نے شکست کا الزام ٹوریز کی ’خوف‘ کی مہم پر لگایا

ٹویکنہم میں ونس کیبل کی شکست سے لبرل ڈیموکریٹس کے نقصان کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ انتخابی حلقہ ہے جہاں سے وہ 1997 سے جیت رہے ہیں۔ کیبل پارٹی کے سب سے زیادہ سینیئر رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور وہ سابق اتحادی حکومت میں بزنس سیکریٹری تھے۔ لیکن وہ کنزرویٹو جماعت کی امیدوار تانیا میتھیاس سے شکست کھا گئے۔

کیبل نے 23,563 ووٹ حاصل کیے جبکہ تانیا 25,580 حاصل کر کے بازی لے گئیں۔ کیبل نے شکست کا الزام ٹوریز کی ’خوف‘ کی مہم پر لگایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ لبرل ڈیموکریٹس کے لیے ایک مشکل رات تھی لیکن یقین ہے کہ جماعت واپس آئے گی۔

ڈینی الیگزینڈر، لبرل ڈیموکریٹس

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ڈینی الیگزینڈر کو ایس این پی کے امیدوار ہاتھوں شکست ہوئی

ڈینی الیگزینڈر سکاٹ لینڈ میں اپنے نشست کھونے والے لبرل ڈیموکریٹس کے سب سے سینیئر رہنما ہیں۔ وہ لبرل ڈیموکریٹس کی طرف سے خزانے کے محکمے کے چیف سیکریٹری تھے اور چانسلر جارج اوسبورن کے تقریباً نائب تھے۔ انھوں نے 2005 میں انورنس، نائرن، بیڈنوک اور سٹریتھسپے کی نشست جیت کر پارلیمان میں شمولیت اختیار کی۔ اب ان کو ایس این پی کے ڈریو ہینڈری نے 10,000 ووٹوں سے شکست دی ہے۔

ڈگلس الیگزانڈر، لیبر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈگلس الیگزینڈر کو پارلیمان کے لیے منتخب ہونے والی ایس این پی کی سب سے کم عمر امیدوار نے شکست دی

یہ پیسلے اور رینفریوشائر میں رات کا پہلا ہائی پروفائل نقصان تھا۔ لیبر کے خارجی امور کے ترجمان اور کیمپین کوآرڈینیٹر ڈگلس الیگزانڈر ایس این پی کی 20 سالہ طالب علم امیدوار ماری بلیکسے شکست کھا گئے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ لیبر کے لیے ایک مشکل رات تھی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سکاٹ لینڈ نے اس کنزرویٹو حکومت کی مخالفت کو چنا ہے لیکن انھوں نے لیبر پارٹی پر بھی بھروسہ نہیں کیا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آنے مہینوں اور برسوں میں یہ بھروسہ دوبارہ حاصل کر سکیں۔‘

جم مرفی، لیبر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جم مرفی پر دباؤ ہے کہ وہ سکاٹ لینڈ میں بطور لیبر رہنما استعفیٰ دے دیں

سکاٹ لینڈ میں لیبر کے رہنما جم مرفی بھی ایس این پی کی کامیابی کی دھار کا نشانہ بنے اور ایسٹ رینفریو شائر میں 4,000 ووٹوں سے شکست کھا گئے۔ نتائج کے بعد بات کرتے ہوئے مرفی نے، جن کے پاس یہ نشست گذشتہ 20 برس سے تھی، کہا کہ ’یہ ایس این پی کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ ہے لیکن انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ کل سے فائٹ بیک یا مزاحمت شروع ہو جائے گی۔ ان پر یہ بھی دباؤ ہے کہ وہ بطور لیبر رہنما استعفیٰ دے دیں۔

جارج گیلوے، ریسپیکٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریسپکٹ کے جارج گیلوے کو لیبر کی پاکستان نژاد نسیم شاہ نے بھاری مارجن سے ہرا دیا

بریڈ فرڈ ویسٹ کے ممبر پارلیمان جارج گیلوے لیبر کی پاکستانی نژاد نسیم شاہ سے 19,000 سے بھی زیادہ ووٹوں سے ہار گئے۔ جارج گیلوے نے 2012 کے ضمنی انتخاب میں لیبر کے روایتی مضبوط گڑھ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’تین برس تک بریڈ فرڈ ویسٹ کا ممبر پارلیمان رہنا ایک اعزاز ہے جو کہ خاص لوگوں کی ایک خاص جگہ ہے۔ میں اب اپنی اگلی مہم کی طرف جا رہا ہوں۔‘

ایڈ ڈیوی، لبرل ڈیموکریٹ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ایڈ ڈیوی کہتے ہیں کہ انتخابی نتائج ’اتحادی حکومت کا حصہ بننے کی قیمت ہے‘

لبرل ڈیموکریٹ کے توانائی کے سیکریٹری ایڈ ڈیوی کی کنگسٹن اور سربیٹن میں شکست پارٹی کے لیے ایک اور بڑا نقصان تھا۔ کابینہ کے وزیر کو کنزرویٹو امیدوار جیمز بیری نے 3,000 ووٹوں سے شکست دی۔ ڈیوی 1997 سے اس علاقے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لبرل ڈیموکریٹس کو اتحادی حکومت کا حصہ بننے کی ’قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔‘

سائمن ہیوز، لبرل ڈیموکریٹ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption 2015 کے انتخابی نتائج سائمن ہیوز کے تین دہائیوں پر مشتمل سیاسی کریئر کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہیں

سائمن ہیوز کا 32 سالہ دارالعوام کا کریئر جمعے کی صبح کو اس وقت ختم ہو گیا جب وہ برمونڈسے اور اولڈ سدرک کی نشست لیبر کے ہاتھوں کھو بیٹھے۔ 63 سالہ امیدوار پارٹی کے سب سے سینیئر رہنما تھے، جنھوں نے کبھی نائب رہنما کے طور پر بھی کام کیا تھا۔ انھوں نے دو مرتبہ پارٹی کی قیادت کے لیے بھی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ 2004 میں وہ لندن کے میئر کے لیے لبرل ڈیموکریٹ کے بھی امیدوار تھے۔

چارلس کینیڈی، لبرل ڈیموکریٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چارلس کینیڈی نے شکست کے بعد کہا ہے کہ اپنے حلقے کی نمائندگی کرنا ان کے لیے ایک اعزاز کی بات تھی

ایس این پی کے ہاتھوں شکست کھانے والے لبرل ڈیموکریٹ کے ایک اور سینیئر رہنما چارلس کینیڈی بھی ہیں۔ لبرل ڈیموکریٹ کے سابق رہنما گذشتہ 30 برسوں سے سکاٹ لینڈ کے حلقے راس، سکائی اور لوشیبر سے منتخب ہوتے آئے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ وہ 5,000 سے زیادہ ووٹوں سے ہارے ہیں جو پارٹی کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔

انھوں نے شکست کے بعد کہا کہ اس حلقے کی نمائندگی کرنا میرے لیے بڑا اعزاز تھا۔

ایستھر میکوے، کنزرویٹو

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ’سیاست میں مدوجزر آتے رہتے ہیں‘

کنزرویٹو کی ایمپلائمنٹ کی وزیر ایستھر میکوے اپنی ورال ویسٹ کی نشست لیبر کے ہاتھوں 417 ووٹوں سے ہار گئی ہیں۔

ورال ویسٹ کی ایک مارجن کی نشست ہے اور میکوے میری سائیڈ سے ویسٹ منسٹر کے لیے ٹوریز کی واحد امیدوار تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’سیاست میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں، لیکن میں اس سے باہر نکلوں گی، اپنے آپ کو صاف کروں گی، اور میں وہاں ممبر پارلیمان بننے کے لیے واپس آؤں گی کیونکہ مجھے کنزرویٹو جماعت اور یہ جس کے لیے کھڑی ہوتی ہے اس پر یقین ہے۔ آپ نے ابھی میرا آخر نہیں دیکھا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہ لیبر سے ہار گئی ہیں لیکن کنزرویٹو ووٹ میں 2,000 ووٹوں کا اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں