سابق مصری فٹ بالر کے اثاثے منجمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابوتریکا قومی ٹیم اور قاہرہ کے ال آہلے کلب سے کھیلتے تھے اور انھوں نے سنہ 2013 فٹ بال کو خیر باد کہہ دیا تھا

مصری حکام نے سابقہ فٹ بالر محمد ابوتریکا کے اثاثے کالعدم اسلامی شدت پسند تحریک اخوان المسلمین کی مالی امداد کرنے کے الزام میں مجمد کر لیے ہیں۔

حکام نے امید ظاہر کیا ہے کہ عدالت اس مسئلے پر جلد فیصلہ کرے گی۔

ابوتریکا نے کہا ہے کہ وہ ترقی کے کام کرنے کے لیے مصر میں ہی رہیں گے۔

سابقہ فٹ بالر نے سنہ 2012 میں عوامی سطح پر محمد مرسی کی کامیابی کی تصدیق کی تھی۔ محمد مرسی کو سنہ 2013 میں فوج نے معزول کر دیا تھا۔

محمد مرسی کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اخوان المسلمین کے سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

مصری حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابوتریکا کے اثاثوں کو منجمد کر لیا ہے جن میں بہت سی کمپنیوں میں ان کے حصص بھی شامل ہیں۔

اس کے جواب میں 36 سالہ سابق مڈ فیلڈر نے ٹوئٹ کے ذریعے کہا: ’ پیسوں کو ضبط کیا جائے یا ان پیسوں کے مالک کو، میں ملک نہیں چھوڑوں گا اور میں اس ملک کی خوشحالی کے لیے کام کرتا رہوں گا۔‘

بی بی سی کی اینس مظہر کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوگیا کہ انھوں نے اخوان المسلمین کو مالی مدد فراہم کی ہے تو یہ کیس عدالت میں چلا جائے گا۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ابوتریکا کو تحقیقات کے دوران عارضی طور پر حراست میں بھی لیا جا سکتا ہے۔

اینس نے بتایا ہے کہ اس معاملے پر مصر کے لوگوں میں تفریق نظر آرہی ہے۔ بحثیت فٹبالر ان کے چاہنے والے انھیں سپورٹ کر رہے ہیں جبکہ دوسرے حکام کی طرف داری کر رہے ہیں۔

ابوتریکا قومی ٹیم اور قاہرہ کے ال آہلے کلب سے کھیلتے تھے اور انھوں نے سنہ 2013 فٹ بال کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

وہ اس دوران چار بار افریقہ کے سال کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے۔

اسی بارے میں