جنگِ عظیم دوم کے 70 سال، یورپ میں تقریبات جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آٹھ مئی 1945 میں اتحادی افواج نے جرمن نازیوں کی غیر مشروط شکست کو تسلیم کیا تھا

دوسری جنگِ عظیم کے 70 سال مکمل ہونے کے موقع پر یورپ بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

پیرس، لندن، برلِن اور واشنگٹن میں تقریبات ہو رہی ہیں جبکہ اس سلسلے میں ماسکو میں سنیچر کو تقریب منعقد ہو گی۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے پیرس کی آرچ ڈی ٹرائمف نامی تاریخی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

ابتدائی تقریب نصف شب کو پولینڈ کی ڈانسک نامی بندرگاہ پر منقد ہوئی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے دوسری جنگِ عظیم کے آغاز پر پہلی گولی چلائی گئی تھی۔

ڈانسک میں جنگِ عظیم دوم کے دوران ویسٹر پیلٹ کے محاذ پر لڑنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے دعائیہ تقریب میں 21 توپوں کی سلامتی دی گئی۔ اس موقعے پر پولینڈ کا قومی ترانہ بھی پیش کیا گیا ہے۔

پولینڈ کے صدر برونیس کفوا کموروسکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دوسری جنگِ عظیم ہٹلر اور سٹالن کی آمرانہ حکومتوں کے تعاون کے باعث شروع ہوئی اور یہ کمیونزم کی صورت میں ختم ہوئی۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے بعد یہ خطہ ادغام کے عمل سے گزرا اور اس نے بعد میں یورپین یونین کی شکل اختیار کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرانسیسی صدر نے اپنے بیان میں وی ای ڈے (وکٹری ان یورپ ڈے) کو مثالی تصور کی مطلق النعان تصور پر فتح قرار دیا۔

اس تقریب میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سمیت چیک رپبلک، رومانیہ، یوکرین اور بلغاریہ سمیت متعدد ممالک کے صدور شریک تھے۔

پولینڈ نے ماسکو کے وکٹری ڈے کی پریڈ کے متبادل کے طور پر اس تقریب کا انعقاد کیا تھا۔

روس میں سنیچر کو تقریب تو منعقد ہو گی تاہم بہت سے مغربی ممالک اس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جس کی وجہ یوکرین کے معاملے پر روس کے ساتھ پائی جانے والی کشیدگی ہے۔

پیرس کی آرچ ڈی ٹرائمف نامی تاریخی یادگار پر، جو ایک نامعلوم سپاہی کا مقبرہ ہے، منقعد ہونے والی تقریب میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند بھی شریک تھے۔

فرانسیسی صدر نے اپنے بیان میں وی ای ڈے (وکٹری ان یورپ ڈے) کو مثالی تصور کی آمرانہ تصور پر فتح قرار دیا۔

اسی طرح جرمنی کی پارلیمنٹ میں بھی ڈی ڈے کے موقع پر خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں سپیکر اسملبی نے مغربی اتحادی افواج اور سویت یونین کی فوج کو خراج تحسین پیش کیا جنھوں نے جنگ کا خاتمہ کیا۔

سپیکر نوبرٹ لمرٹ نے آٹھ مئی کو جرمنی کے لیے آزادی کا دن قرار دیا۔

اسی طرح لندن میں بھی سینوٹاف اور 200 بیکنز میں دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی اور ملک بھر میں چراغاں ہو گا۔

واشنگٹن میں موجود دوسری جنگ عظیم کی یادگار پر بھی ایک تقریب منعقد ہوگی جس میں فائٹر طیارے فلائی پاسٹ کریں گے۔

خیال رہے کہ آٹھ مئی 1945 میں اتحادی افواج نے جرمن نازیوں کی غیر مشروط شکست کو تسلیم کیا تھا اور اسی کے نتیجے میں یورپ میں جنگ کا خاتمہ ہوا تھا۔ لیکن مکمل طور پر دوسری جنگِ عظیم کا خاتمہ اس کے تین ماہ بعد اس وقت ہوا جب جاپان نے ہتھیار ڈالے۔

اسی بارے میں