چینیوں نے ’جھنکار‘ ہی چوری کر لی

گھنٹیاں تصویر کے کاپی رائٹ

اطلاعات کے مطابق چین میں ہوا سے جھنکار کرنے والی گھنٹیوں کے میلے کو اس وقت منسوخ کرنا پڑا جب سیاحوں نے وہاں سے سبھی گھنٹیاں چرا لیں۔

مشرقی ژیانگ صوبے کے ایک پارک میں منتظمین نے درختوں کو 1,000 سے زیادہ جھنکار والی گھنٹیوں سے سجایا تھا لیکن میلے کے شروع ہونے کے کچھ دن بعد ہی وہاں آنے والے سیاحوں نے وہاں لگی زیادہ تر گھنٹیوں کو چوری کر لیا۔

چائنا نیوز سروس کے مطابق کئی لوگوں کو درختوں کی شاخوں پر چڑھے دیکھا جا سکتا تھا تاکہ وہ اپنی پسندیدہ گھنٹیاں اتار سکیں۔ کئی ایک نے تو انھیں اتارنے کے لیے لمبے بانس استعمال کیے۔

میلے میں اتنی کم گھنٹیاں بچیں کہ بعد میں آنے والے سیاحوں نے شکایت کرنا شروع کر دی کہ گھنٹیوں کے میلے کا اشتہار دے کر ان سے دھوکا کیا گیا ہے۔ میلے کو پورا مئی جاری رہنا تھا لیکن گھنٹیوں کی کمی کی وجہ سے اسے بدھ کو ہی بند کرنا پڑا۔

یہ معلوم نہیں کہ سیاحوں کی قومیت کیا تھی لیکن چین کا سوشل میڈیا اپنے شہریوں کی طرف ہی انگلی اٹھا رہا ہے۔

چین کی ایک سوشل میڈیا سائٹ سائنو ویبو پر ایک شخص نے لکھا ہے کہ ’میں اپنے ملک کے عوام کے نام پر دھبہ نہیں لگانا چاہتا لیکن اس طرح کے واقعات ایک سے زیادہ مرتبہ ہو چکے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس پیسہ ہے لیکن وہ درست کام نہیں کرتے۔‘

لیکن کچھ دوسرے اس پر حیران نہیں ہیں۔ ایک شخص نے کہا ہے کہ لوگ موقع پرست ہو جاتے ہیں۔ ’یہ نہیں کہ وہ ہوا سے بجنے والی گھنٹیاں پسند کرتے ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ وہاں انھیں چوری کرنے ہی آتے ہیں۔‘