70 سال بعد فتح کے دن کی یادیں

وی ای ڈے تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جب آٹھ مئی کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تو لوگ جشن منانے لگی

برطانیہ کے طول و عرض میں جرمنی کی شکست اور یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے پر جشن کا سماں تھا۔

8 مئی 1845 کو یورپ میں فتح کا دن یا وی ای ڈے پر عوامی تعطیل کا اعلان کیا گیا۔

تاہم یہ دن بہت سوں کے لیے ملے جلے جذبات لاتا ہے۔

70 سال کے بعد چھ لوگ بتاتے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ان کے لیے کیسا تھا۔

ہٹلر کے سابق محافظ اور ان کی برطانوی بیوی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیٹی اور ہانز دوسری جنگِ عظیم کے بعد لیئسٹرشائر میں ملے

جب جنگ ختم ہوئی تو ہانز کوہن امریکہ کے شہر ٹینیسی میں 20 سالہ جرمن جنگی قیدی تھے۔

انھوں نے ریڈیو لیئسٹر کو بتایا کہ ’فتح کے دن وہاں کوئی جشن نہیں منایا جا رہا تھا کیونکہ ہم جنگ ہار رہے تھے۔ لیکن میں وہاں کنٹین پر گیا اور کچھ دوستوں کے ساتھ شراب پی۔ اس کے فوری بعد انھوں نے ہمیں جرمنی واپس بھیجنے کے لیے تیار کرنا شروع کر دیا۔‘

بحر اوقیانوس کے دوسری طرف لیئسٹر شائر کے علاقے میلٹن ماوبرے میں 14 سالہ بیٹی ڈکنسن رہ رہی تھیں۔

’وی ای ڈے پر میں سکول میں تھی۔ سبھی خوش تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں 66 سال سے شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں

لیکن ان کے خاندان کا بہت نقصان ہوا تھا کیونکہ بہت سے رشتہ دار مر چکے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’میری ماں کے دو بھائی جرمنی کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہو چکے تھے اس لیے وہ جرمنی کی سخت مخالف تھیں۔ ’انھیں جرمنوں سے نفرت تھی۔‘

کوہن ہٹلر کے محافظ رہ چکے تھے لیکن اس کے بعد انھیں لڑنے کے لیے نارمینڈی بھیج دیا گیا، جہاں وہ شدید زحمی ہو گئے اور امریکیوں نے انھیں پکڑ لیا۔

جنگ کے بعد وہ لیئسٹرشائر کے ایک فارم پر کام کرنے آئے جہاں ایک پارٹی میں ان کی ملاقات بیٹی سے ہوئی۔

بیٹی مسکراتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں اسے برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ وہ میرے پہ حاوی ہوتا گیا اور یقیناً میں حاملہ ہو گئی، کیا ایسا نہیں ہوا تھا؟ جب ہم نے شادی کی تو میں 18 برس کی تھی۔‘

لوگ بیٹی پر تھوک پھینکتے، ناتزی کی چاہنے والی کہتے اور مرتبہ تو نوجوانوں کے ایک گینگ نے انھیں مکے اور لاتیں بھی ماریں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم اسے بھلا چکے ہیں، ہم اب بھی اکٹھے ہیں، سو آخر میں جیت ہماری ہی ہوئی ہے، کیوں ہماری نہیں ہے کیا؟‘

کوہن کہتے ہیں کہ وہ اس وقت فتح کے دن ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ 70 سال بعد بھی ایک انگلش لڑکی کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھے ہوں گے۔

جی آئی کے ’براؤن بچے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’میری ماں کو بہت اذیت کا سامنا کرنا پڑا‘

ٹیری ہیریسن اور ان کی بہن سوسن دوسری جنگِ عظیم کی فتح کے دن سے گیارہ ماہ پہلے 9 جون 1944 کو پیدا ہوئے تھے۔ یہ ان کی ماں کے ایک سیاہ فام امریکی جی آئی سے تعلقات کا نتیجے تھے۔

اکثر ’براؤن بچے‘ جن کے باپ سیاہ فام جی آئی تھے ان کو کسی کو گود دیا جاتا یا انھیں بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے مخصوص گھروں میں بھیج دیا جاتا لیکن ہیریسن نے اپنے بچے دینے سے انکار کر دیا۔

ان کے شوہر چارلی ہیریسن محاذ پر تھے اور جب فتح کا دن آیا انھوں نے اس وقت تک اپنے شوہر کو اپنے جڑواں بچوں کے متعلق نہیں بتایا تھا۔

ٹیری نے بی بی سی ریڈیو لیئسٹر کو بتایا کہ زیادہ تر بیویاں جنگ کے بعد اپنے شوہروں کی واپسی کی منتظر تھیں لیکن میرے کیس میں میری ماں کو ذرا فکر تھی۔

’اس میں کوئی شک نہیں کہ انھیں پہلی مرتبہ اس وقت یہ پتہ چلا جب وہ جنگ کے بعد واپس آئے، اور گھر میں داخل ہوئے۔‘

ٹیری ہیریسن کی ماں کے ساتھ لیئسٹر شائر کے گاؤں گیڈیسبی میں ان کے ہمسائیوں اور ان کے اپنے خاندان کے لوگوں نے بہت برا سلوک کیا۔

’مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں جب میں اپنی ماں کے ساتھ گلی سے گزرتا تو لوگ میری ماں سے ہٹ کے گزرتے تھے اور کبھی کبھار تو کچرے کے ڈبے کے ڈھکنے نفرت کے اظہار کے طور پر بجائے جاتے۔‘

’اور ماں کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑا، اپنی بہنوں، میری آنٹیوں سے بھی اور اس وقت دوسرے رشتہ داروں سے۔‘

ٹرافالگر سکوائر میں جشن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹرافالگر سکوائر پر جشن منانے والوں میں رینز بھی تھے

وال روئسٹن لندن میں ویمنز رائل نیول سروس کے دفتر میں کام کرتی تھیں اور وی ای ڈے پر وہ اور ان کی ساتھی دوسری رینز بکنگھم پیلس کے باہر جشن منانے والے ہجوم میں شامل تھیں۔

انھیں یاد ہے وہ ’زبردست ماحول‘ جب لوگ وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل اور شاہی خاندان پیلس کی بالکنی پر آیا تھا۔

وال روئسٹن کو یاد ہے کہ شہزادی ایلزبتھ، جو کہ بعد میں ملکہ برطانیہ بنیں، بالکنی سے ہاتھ ہلا رہی تھیں۔ 97 سالہ روئسٹن جنگ کے خاتمے کے وقت 27 برس کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption روئسٹن 97 برس کی عمر میں

وال روئسٹن نے اپنے والدین کو خط لکھا جس میں انھوں نے بکنگھم پیلس کے باہر ماحول کا تذکرہ کیا۔ ’ہجوم زور زور سے چلا رہا تھا‘ اور دی مال بہت سے لوگوں سے بھرا پڑا تھا۔

ان کے کچھ دوست پکاڈلی پر رات گئے تک جشن مناتے رہے، لیکن وہ گھر گئیں اور شفیلڈ میں اپنے والدین کو ایک لمبا خط لکھا۔

غمزدہ بیوی اور بیٹی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیٹی ایلن نے، جو یہاں اس تصویر میں سکاربرو میں اپنے والدین کے ساتھ نظر آ رہی ہیں، وہ ٹیلیگرام کھولا تھا جس میں ان کے والد کی موت کی اطلاع دی گئی تھی

جہاں لاکھوں لوگ جشن منا رہے تھے وہیں بیٹی ایلن اپنے پیارے باپ کی موت پر نوحہ کناں تھیں۔

وی ای ڈے سے ایک روز قبل جو کہ ان کی 13 ویں سالگرہ سے چند روز پہلے تھا، انھیں اور ان کی والدہ کو ایک ٹیلیگرام ملا جس میں انھیں بتایا گیا تھا کہ بیٹی کے والد مر چکے تھے۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو شیفیلڈ کو بتایا کہ ’مجھے کبھی بھی جشن منانے کا احساس تک نہیں ہوا ہے۔‘

’میرا مطلب ہے کہ مجھے مختلف طریقے سے محسوس کرنا چاہیے تھا لیکن میں اب بھی محسوس کرتی ہوں کہ میں جشن منا سکتی تھی کیونکہ میں اور میری ماں بہت تکلیف میں تھے۔‘

’مجھے یہ بالکل منصفانہ نہیں لگا کہ وہ جنگ لڑتے رہے اور اس کے بالکل آخر میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘

بیٹی اپنے والدین کی واحد اولاد تھیں اور اپنے والد جارج ہینری ٹیری کو پوجنے کی حد تک پیار کرتی تھیں۔

حالانکہ وہ صرف 12 برس کی تھیں لیکن انھوں نے اپنی ماں کو اچانک صدمے سے بچانے کے لیے خود ہی ٹیلیگرام کھولا۔

’ہم سوچ رہی تھے کہ وہ جلد ہی گھر واپس آ جائیں گے۔ یہ بہت خوفناک محسوس ہوا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ میں یہ کروں۔‘

اپنے باپ کی موت کے بعد بیٹی دوسرے فوجیوں کا پیچھا کرتی رہتی اور ایسا ظاہر کرتی کہ وہ اس کے والد ہیں۔

’اگر مجھے کوئی فوجی نظر آتا تو میں اس کے پیچھے یہ سوچتے ہوئے چل پڑتی کہ ’اور یہ شاید میرے والد ہوں، اور یقیناً مجھے پتہ تھا کہ ایسا نہیں تھا۔‘

انھوں نے تمام عمر اپنے خیالوں میں اپنے باپ سے باتیں کی ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ گذشتہ سال بھی میں کہا تھا ’والد میں اب بوڑھی ہو چکی ہوں، جیسے کہ میں نے اپنی زندگی کے متعلق انھیں اپ ڈیٹ رکھا ہے۔‘

اٹلی میں ایک فوجی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈونلڈ ڈکسی ڈین 1924 میں پیدا ہوئے تھے اور اپنی 18 ویں سالگرہ پر ہیمشائر رجمنٹ میں بطور رضاکار بھرتی ہو گئے تھے

ڈونلڈ ڈکسی ڈینکو یاد ہے کہ کس طرح انھوں نے اٹلی میں جنگ کے خاتمے کے بعد آرام کیا تھا، شراب پی تھی اور ایک فوارے پر بھی چڑھ گئے تھے۔ یہ وی ای ڈے سے چھ روز قبل تھا۔

انھوں نے اس وقت روم سے دس میل دور اپنی پیراشوٹ ٹریننگ مکمل ہی کی تھی۔

انھوں نے بی بی سی سرے کو بتایا کہ ’ہم ہر شام روم جاتے تھے کیونکہ جہاں تک ہمارا تعلق تھا جنگ ختم ہو چکی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ زیادہ تر آرام کا ایک احساس تھا۔

’مجھے یاد ہے کہ ایک شام، وہ شاید 5 مئی ہو گی، ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم کھل کر جیئں گے، سو ہم ایک بار میں گئے اور وہاں موجود سب ڈرنکس پی لیے، مختلف رنگوں کا مائع۔‘

’ہم نے ایک کے بعد دوسری پی، پھر دوسری، پھر دوسری، پیلی اور سبز، خدا جانے وہ کیا تھا۔ یہ بھی معجزہ ہے کہ ہم مر نہیں گئے تھے۔‘

’مجھے یاد ہے کہ میں ایک فوارے میں اپنے گھٹنوں پر بیٹھا تھا اور وہاں موجود کچھ سیلرز بھی تھے، ان میں سے ایک چلا رہا تھا کہ وہ ڈوب رہا ہے۔‘

اسی بارے میں