لارنس آف عریبیہ کی موت اور کریش ہیلمٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دوسری جنگِ عظیم سے پہلے موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ نہیں پہنتے تھے

ٹی ای لارنس جنھیں دنیا لارنس آف عریبیہ کے نام سے یاد کرتی ہے، کا انتقال 80 سال پہلے ایک حادثے میں ہوا۔

اس وقت انھیں یا ان کی جان بچانے کی ناکام کوشش کرنے والے سرجن کو علم ہی نہیں تھا کہ یہ حادثہ بعد میں ہزاروں جانوں کو بچانے کا سبب بنے گا۔

جب ٹی ای لارنس کا انتقال 19 مئی 1935 کی ایک اتوار کی صبح کو ہوا تو اس وقت بارش ہو رہی تھی۔

اس دن وہ شخص جو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی جنگی صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور تھے چھ روز قبل ہونے والے موٹر سائیکل کے حادثے کے بعد سر پر چوٹ کی وجہ سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ اس وقت اس کی عمر 46 سال تھی۔

لارنس اپنے ڈورسٹ کے گھر کے قریب سائیکل پر دوسری طرف سے آنے والے دو بچوں کو بچاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئے۔ وہ بورو سپریئر ایس ایس 100 چلا رہے تھے۔

لارنس نے اپنی موٹر سائیکل کا نام بوا یا بنرجیز رکھا ہوا تھا جس کا آرامی یا آرمائیک زبان میں مطلب ’بجلی کا بچہ‘ تھا۔

آیا لارنس حادثے سے پہلے محفوظ طریقے سے موٹر سائیکل چلا رہے تھے یا نہیں یہ واضح نہیں۔

ٹی ای لارنس سوسائٹی کے فلپ نیئل کہتے ہیں کہ ’یہ پتہ لگانا بہت مشکل ہے کہ 1935 میں سڑک کیسی تھی کیونکہ یہ بہت بدل چکی ہے۔ لیکن شواہد یہی ہیں کہ یہ صاف ایک حادثہ تھا۔‘

’وہ کنٹرول کھو بیٹھے اور ہینڈل سے اوپر سے ہوتے ہوئے آگے گرے۔ بورو کی بریکیں کچھ اتنی اچھی نہیں تھیں۔ سڑکیں بھی ان دنوں بہت مختلف تھیں۔ کم ٹریفک کی وجہ سے ڈورسٹ کی سڑکوں پر بھی کچھ تیز ہی چلایا جا سکتا ہو گا۔‘

ان کی موت پر لکھے گئے مضامین میں کہیں نہیں لکھا گیا کہ لارنس کریش ہیلمٹ کے بغیر تھے۔ 1935 میں موٹر سائیکل عموماً کسی ہیلمٹ کے بغیر ہی چلائی جاتی تھی۔ لیکن لارنس کی موت نے اس روایت کو بدلنے میں مدد دی۔

لارنس کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے ڈاکٹروں میں ایک نوجوان ڈاکٹر ایو کیئرنز بھی تھے جو کہ برطانیہ کے پہلے نیوروسرجنوں میں سے ایک تھے۔

ان کی طرف سے کیے جانے والے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ جب لارنس کا غیر محفوظ سر زمین سے ٹکرایا تو ان کے دماغ کو شدید چوٹیں لگی تھیں۔ اگر وہ اس حادثے سے بچ بھی جاتے تو دماغ میں چوٹ کی وجہ سے وہ اندھے ہو جاتے اور تمام عمر بول نہ سکتے۔

لارنس کی موت کو کیئرنز نہیں بھولے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption موٹر سائیکل سواروں کے حادثات میں بہت سے اموات کے بعد ہیلمٹ کو لازمی قرار دیا گیا

آکسفورڈ میں کیئرنز کے ہاتھوں قائم کیے گئے نفیلڈ ڈیپارٹمنٹ آف سرجری کے کنسلٹنٹ نیوروسرجن ایلکس گرین کہتے ہیں کہ ’ہمیں کیئرنز کی ڈائریوں سے پتہ چلتا ہے وہ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے موٹر سائیکل سواروں میں سر کی چوٹوں اور کریش ہیلمٹوں کے متعلق بہت سوچ رہے تھے۔ ان کا حوالہ ان کی ڈائریوں میں ہے اور پہلا حوالہ اس وقت ہے جب ٹی ای لارنس کی موت واقع ہوئی تھی۔‘

کیئرنز نے موٹر سائیکل سواروں میں سر کی چوٹوں کے متعلق شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔

اکتوبر 1941 میں لارنس کی موت کے چھ سال بعد کیئرنز نے جو کہ اب فوج کے کنسلٹنگ نیوروسرجن تھے، برٹش میڈیکل جریدے میں اپنی تحقیق کی پہلے نتائج شائع کیے۔ مضمون کا عنوان تھا ’موٹر سائیکل سواروں میں سر کی چوٹیں ۔ کریش ہیلمٹ کی اہمیت۔‘

اس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دوسری جنگِ عظیم کے آغاز سے 21 مہینے پہلے برطانوی سڑکوں پر 1,884 موٹر سائیکل سوار ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں تقریباً دو تہائی سر میں چوٹ کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔

جنگ کے دوران فضائی حملوں کے بعد لگائے جانے والے بلیک آؤٹ سے حالات اور بھی بدتر ہو گئے۔ ستمبر 1939 کے بعد 21 مہینوں میں ٹریفک حادثات میں 2,279 موٹر سائیکل سوار ہلاک ہوئے یعنی ایک مہینے میں 110 جو کہ پہلے ہونے والے حادثات کے تناسب سے 21 فیصد زیادہ تھا۔

اگر اس کا موازنہ تازہ اعداد و شمار سے کیا جائے تو ہیلمٹ کی اہمیت بالکل واضع ہو جاتی ہے۔ 2013 میں کل 331 موٹر سائیکل سوار ہلاک ہوئے جبکہ 1959 میں تقریباً ہر ماہ 28 موٹر سائیکل سوار ہلاک ہوتے تھے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ برطانیہ میں ٹریفک میں 1959 کے مقابلے میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔

کیئرنز نے یہ کہنے میں احتیاط برتی کہ کریش ہیلمٹ پہننے سے سب مسئلہ حل ہو جائے گا۔ حالانکہ انھیں معلوم تھا کہ اس سے فائدہ ہو گا۔

ان کا سب سے بڑا مسئلہ اتنے موٹر سائیکل سوار ڈھونڈنا تھا جو کہ رضاکارانہ طور پر ہیلمٹ پہنیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے اس سے فرق پڑتا ہے۔ کیئرنز کو صرف سات موٹر سائیکل سواروں سے شہادت ملی جن کا حادثہ ہوا تھا لیکن وہ بچ گئے تھے۔ ان سب نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہیلمٹ پہننے سے سر کی چوٹ کی وجہ سے ہونے والی اموات میں قدرے کمی ہوئی

انھوں نے لکھا کہ سب کو سر پر بہت معمولی چوٹ آئی تھی، جب کہ چار کے ہیلمٹ بری طرح تباہ ہوئے تھے۔

اس وقت فوج جو کہ ہر ہفتے دو موٹر سائیکل سوار کھو رہی تھی قائل ہو گئی۔ نومبر 1941 میں اس نے جلدی جلدی پیغام لے کر جانے والے تمام ڈسپیچ موٹر سائیکل سواروں کو حکم دیا کہ وہ ہیلمٹ پہنیں۔ یہ کیئرنز کی پہلی جیت تھی۔

لیکن ابھی کیئرنز کا کام نہیں ختم ہوا تھا۔ اب انھوں نے ہیلمٹ پہننے والے ڈسپیچ رائڈرز کے ساتھ عام شہری موٹر سائیکل سواروں کا موازنہ کرنا شروع کر دیا جو کہ ابھی ننگے سر ہی موٹر سائیکل چلاتے تھے۔

1943 میں کیئرنز نے برٹش میڈیکل جرنل میں ایک اور مضمون میں لکھا کہ اگر موٹر سائیکل سواروں نے اچھا ہیلمٹ پہنا ہو تو ان میں کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹنے کا امکان 75 فیصد کم ہو جاتا ہے۔

1946 میں برٹش میڈیکل جرنل میں چھپنے والی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ فوج کے ہیلمٹ لازمی کرنے سے پہلے موٹر سائیکل سواروں میں موت کی شرح جو تقریباً 200 ماہانہ تھی ہیلمٹ پہننے کے بعد کم ہو کر جنگ کے آخر تک 50 ماہانہ رہ گئی ہے۔

اب کیئرنز کے پاس ثبوت تھا۔

انھوں نے لکھا کہ ’ان تجربات سے کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ کریش ہیلمٹ پہننے سے عام شہری موٹر سائیکل سواروں کی جان بہت حد تک بچ سکتی ہے۔‘

لیکن کیئرنز کی جفاکش تحقیق کے باوجود بھی 1973 میں ہی دارالعوام نے ایک ووٹ کے ذریعے موٹر سائیکل اور موپیڈ پر ہیلمٹ پہننے کو لازم قرار دیا تھا۔

ہیلمٹ کو لازم قرار دیے جانے کے ایک مخالف انوک پاول تھے جنھوں نے دارالعوام میں اس بحث میں حصہ لیا تھا جس میں ہیلمٹ کو لازم قرار دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رکنِ پارلیمان پاول شخصی آزادی کی وجہ سے ہیلمٹ پہننے کی مخالفت کرتے رہے

انھوں نے اپنے ساتھی ارکانِ پارلیمان کو کہا کہ ’شخصی آزادی کے اصولوں اور ذمہ داری کو قائم رکھنا جانوں کے زیاں کو روکنے سے زیادہ ضروری ہے۔‘

’چاہے وہ جانیں تیراکی کرتے، کوہ پیمائی کرتے، کشتی چلاتے یا گھڑ سواری کرتے یا موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہی ضائع ہوں۔‘

پاول کی طرح کے لوگ جیت نہ سکے۔ اور 1983 میں کار میں آگے بیٹھنے والوں کے لیے بھی حفاظت کی خاطر سیٹ بیلٹ پہننا لازمی قرار دے دیا گیا اور 1991 میں کار میں بیٹھے سبھی مسافروں کے لیے بھی۔

شخصی آزادی کے جو بھی دلائل ہوں یہ بات طے ہے کہ جدید کریش ہیلمٹ نے بہت سی جانیں بچائی ہیں۔

ہیو کیئرنز کا انتقال 1952 میں کینسر کی بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد ہوا۔

اسی بارے میں