کیلی فورنیا یونیورسٹی میں سیلفی کا کورس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس کورس کو پڑھنے والے طالبعلم اپنی سیلفیز کے ساتھ مشہور شخصیات کی سیلفیز کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔

کیلی فورنیا یونیورسٹی میں طالب علم اب سیلفی کھینچنے کا کورس بھی پڑھ سکیں گے۔

ایل اے ٹائمز کے مطابق اگرچہ اس کورس کا سرکاری نام لکھائی، تنقید و استدلال ہے لیکن کیمپس پر اسے سیلفی کورس کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ایسوسی ایٹ پروفیسر مارک مرینو کہتے ہیں کہ ’اس کورس میں ہم مطالعہ کرتے ہیں کہ سیلفی کے ذریعے لوگ اپنی شناخت کیسے اجاگر کرتے ہیں، جیسے کہ ان کی جنس، نسل، جنسیت اور اقتصادی حیثیت۔‘

’اس کورس میں ہم ہر تصویر کو دیکھنے والوں کے ردِعمل کا بھی جائزہ لیتے ہیں‘ اور ان کا کہنا ہے کہ اسے وہ شناخت کے شریک تخلیق کا عمل کہتے ہیں۔

اس کورس کو پڑھنے والے طالبعلم اپنی سیلفیز کے ساتھ مشہور شخصیات کی سیلفیز کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ ایک مشق میں طالب علموں کو مشہور پاپ گلوکارہ بیونسِ کی ایک سیلفی دیکھائی جاتی ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اس تصویر سے کیا اخذ کرتے ہیں۔

اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سیلفی لینا دراصل جدید نرگسیت کی نشانی ہے لیکن پروفیسر مارک مرینو اس نظریے سے متفق نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ اطلاع دینے کا جدید طریقہ ہے۔

چینی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہو ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ عمل اس وقت ہی شروع ہوگیا تھا جب پہلی بار کسی نے غار کی دیوار پر اپنے ہاتھ کی تصویر بنائی تھی اور یہ عمل لکھائی اور اپنی خود ہی پینٹ کی ہوئی پوٹریٹس اور ذاتی ڈائریوں کی شکل میں جاری رہا۔‘

ایل اے ٹائمزاخبار کے مطابق پروفیسر مارک مرینو کا کہنا ہے کہ طالب علموں کو خود غرضی سے بچانے کے لیے ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ مقامی نوجوانوں کو یورنیورسٹی کے وظائف کے لیے درخواست لکھنے میں مدد کریں۔ اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ سوشل نیٹورکس سے نکل کر حقیقی زندگی میں بھی لوگوں سے ملیں۔

اسی بارے میں