یمن میں پانچ روزہ جنگ بندی کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق منگل کی شب 11 بجے شروع ہوئی

سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کا شکار ملک یمن میں پانچ روزہ جنگ بندی کا آغاز ہو گیا ہے۔

انسانی بنیادوں پر کی جانے والی اس جنگ بندی کا مقصد امدادی اداروں کو ان عام شہریوں تک رسائی کا موقع دینا ہے جو اس لڑائی کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب نے کہا تھا کہ یمن پر بمباری کی آپریشن ’ڈسائیسو سٹورم‘ (فیصلہ کن طوفان) نامی سعودی مہم میں تعطل حوثیوں کے تعاون سے مشروط ہے اور یہ کہ وہ جنگ بندی سے کوئی فوجی فائدے اٹھانے کی کوشش نہ کریں۔

حوثی باغیوں نے بھی کہا تھا کہ وہ جنگ بندی پر تیار ہیں لیکن وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر کارروائی کریں گے۔

جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق منگل کی شب 11 بجے شروع ہوئی تاہم اس سے چند گھنٹے پہلے سعوی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر کئی فضائی حملے کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حالیہ دنوں میں اتحادی افواج کی بمباری میں اضافہ ہوا ہے

ان حملوں میں شہر کے شمالی مشرقی علاقے میں حوثی باغیوں کے ایک اسلحے کے ڈپو کو دوسرے دن بھی نشانہ بنایا گیا۔

اتحادی افواج نے جنوبی شہر عدن میں بھی باغیوں کے ٹھکانے پر حملے کیے۔

عینی شاہدین کے مطابق منگل کو اتحادی افواج کے جہازوں نے صنعا شہر کے مشرق میں واقع ماؤنٹ نوکم کے فوجی ٹھکانے پر موجود اسلحے کے ڈپو پر دوسرے روز بھی بمباری کی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو ڈپو پر ہونے والی بمباری کے نتیجے میں بڑے دھماکے ہوئے اور تباہ شدہ ملبہ رہائشی علاقوں پر بھی گرا، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اگر جنگ بندی شروی ہو جاتی ہے تو اقوامِ متحدہ اور اس کے پارٹنر ایندھن، خوراک اور پانی لے جانے کے لیے تیار ہیں

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق اتحادی افواج نے عدن میں حوثی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے اور یمن کے جلا وطن صدر عبدالربو منصور ہادی کی اتحادی مقامی ملیشیا نے بھی عدن اور ملک کے دوسرے حصوں میں جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔

منگل کے فضائی حملوں میں کسی جانی نقصان کی ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

لیکن اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ 26 مارچ کو شروع کی جانے والی اتحادی افواج کی فضائی بمباری کی مہم میں اب تک کم از کم 828 عام شہری ہلاک اور 1,511 زخمی ہو چکے ہیں۔

4 سے 10 مئی تک سب سے خوفناک بمباری کی گئی جس میں 182 عام شہری ہلاک ہوئے، جن میں سے تقریباً آدھے عورتیں اور بچے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کیپشن: گزشتہ ہفتے میں فضائی حملوں اور یمن میں لڑائی میں کم از کم 182 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اتحادی چاہتے ہیں کہ منگل کو انسانی بنیادوں پر جنگِ بندی شروع ہونے سے پہلے حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار سکیورٹی گارڈز کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے۔

اقوامِ متحدہ کے یمن کے متعلق نئے ایلچی اسماعیل اولد شیخ احمد صنعا پہنچ چکے ہیں جہاں وہ مختلف جماعتوں سے ملنے کی کوشش کریں گے جن میں حوثی بھی شامل ہیں۔

دریں اثناء منگل کو ایک جہادی ویب سائٹ نے کہا ہے کہ یمن کے ساحلی شہر مکالا میں پیر کو ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں عرب جزیرہ نما میں القاعدہ (اے کیو اے پی) کے چار اراکین ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں