امریکہ میں عیسائیوں کی تعداد میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption دیگر مذاہب کے ماننے والوں جیسے مسلمان، یہودی اور ہندوں، کی تعداد میں تقریباً ایک فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق امریکہ میں عیسائی مذہب کے پیروکاروں میں تیزی سے کمی اور کسی بھی مذہب کو نہ ماننے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

پیو ریسریچ سینٹر کی جانب سے کیے جانے والے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر چہ یہ رحجان ملک بھر میں ہر طبقہ فکر میں دیکھا جاسکتا ہے لیکن نوجوانوں میں مذ ہب سے دوری کا روحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اگرچہ امریکہ ابھی بھی عیسائی آبادی والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن گزشتہ سات سالوں امریکہ میں خود کو عیسائی کہلانے والے افراد کی شرح 78 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد رہ گئی ہے۔ اس کمی سے عیسائیت کے مختلف فرقے یعنی کیتھولک، ایوینجلیکل پروٹسٹنٹ اور پروٹسٹنٹ سبھی متاثر ہوئے ہیں۔

منگل کے روز شائع کی گئی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دورانیے میں خود کو لا دین کہلوانے والوں کی شرح 16 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد ہوگئی ہے۔

دوسری جانب دیگر مذاہب کے ماننے والوں جیسے مسلمان، یہودی اور ہندوؤں، کی تعداد میں تقریباً ایک فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مذہب سے دوری کی سیاسی اہمیت بھی ہے۔ کسی بھی مذہب کو نہ ماننے والے اکثر ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اور اسی طرح سفید فام عیسائی افراد میں رپبلکن پارٹی کو ووٹ دینے کا رجحان پایا جاتا ہے۔

دریں اثنا سنہ 2010 سے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے مابین شادیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب ہر دس میں سے چار شادیاں بین العقائد شادیاں ہوتی ہیں جبکہ سنہ 1960 سے پہلے ہر دس میں سے صرف ایک شادی ایسی ہوتی تھی۔

واضع رہے کہ اس تحقیق کے لیے پیو ریسریچ سینٹر نے گزشتہ برس 35 ہزار سے زیادہ امریکی شہریوں کے انٹرویو کیے تھے۔

اسی بارے میں