دولتِ اسلامیہ کی جانب سے ’البغدادی کا نیا پیغام‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ کے سربراہ نےاپنے پیغام میں یمن میں سعودی بمباری کا ذکر نبھی کیا اور سعودی عرب کے شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اپنے سربراہ ابوبکر البغدادی کا ایک صوتی پیغام جاری کیا ہے جو درست ثابت ہونے کی صورت میں گذشتہ کئی ماہ کے بعد منظر عام پر آنے والا ان کا پہلا پیغام ہوگا۔

اس پیغام میں ابو بکر البغدادی نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’خلافت ‘ کے لیے ہتھیار اٹھائیں اور ترکِ وطن کریں۔

خیال رہے کہ ابو بکر البغدادی نے شام اور عراق کے علاقوں میں خلافت کا اعلان کر رکھا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟

دولتِ اسلامیہ کے نائب سربراہ کی ہلاکت

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر پیغام میں سنائی دینے والی آواز ابو بکر البغدادی کی ہے۔ تاہم ابھی اس کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

بتایا گیا ہے کہ یہ صوتی پیغام الفرقان نامی گروہ کے ذرائع ابلاغ کے شعبے کی جانب سے جاری ہوا ہے اور بہت سی ویب سائیٹس پر دکھائی دے رہا ہے۔

پیغام میں کہا گیا ہے کہ’مسلمانوں کے لیے دولتِ اسلامیہ کی خاطر ہجرت نہ کرنے پر کوئی بھی معافی نہیں ہے۔۔۔اس میں شمولیت(جنگ کے لیے) مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہم آپ کو بلا رہے ہیں یا تو شمولیت اختیار کریں یا جہاں بھی ہیں ہتھیار اٹھا لیں ( لڑنے کے لیے)۔‘

جاری ہونے والے بیان میں ابو بکر البغدادی نے حال ہی میں یمن کے شیعہ حوثی باغیوں پر سعودی قیادت میں ہونے والی بمباری کا حوالہ بھی دیا اور سعودی عرب کے شاہی خاندان پر تنقید کی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ عراق کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی رواں سال مارچ میں اتحادی افواج کے حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔ تاہم گذشتہ سال بھی البغدادی کے زخمی ہونے کی خبر آئی تھی جو بعد میں غلط ثابت ہوئی تھی۔

پلمائرہ کی جانب پیش قدمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پلمائرہ کومشرقِ وسطیٰ میں موجود آثارِ قدیمہ کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے

دولتِ اسلامیہ کے سربراہ کا پیغام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس کے جنگجو شام سمیت مشرقِ وسطیٰ میں آثارِ قدیمہ کےقیمتی مرکز سمجھے جانے والے شہر پلمائرہ سے فقط دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔

جمعرات کو اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ اس سے ملحقہ شہر تدمر تک دولتِ السامیہ کے جنگجو پہنچ چکے ہیں۔ شامی فوج ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے کوشاں ہے۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے خبر دار کیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شہر میں داخلے کی صورت میں یہ شہر تباہ ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں چار سالہ خانہ جنگی کی وجہ سے پہلے ہی اس شہر کو بہت نقصان پہنچ چکا ہے۔ دولتِ اسلامیہ اس سے قبل نمرود، ہترا اور موصل میں تباہی مچا چکی ہے۔

اسی بارے میں