فلسطینی کو علحیدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا معاہدہ جلد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یورپ کے کئی منتخب ادارے فلسطین کے حق میں قرار دادیں منظور کر چکے ہیں

کیتھولک عیسائیوں کے مرکز ویٹیکن کے حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی ایک معاہدے کے تحت فلسطینیوں کی علیحدہ ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا جائے گا۔

اسرائیل نے ویٹیکن کے اس اعلان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے قیام امن کے علم پر مثبت اثر نہیں پڑے گا۔

فلسطین اور ویٹیکن کے درمیان جو اسرائیل اور فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے مذاکرات کا عمل بیس سال سے جاری ہے۔

صدر عباس اس ہفتے پوپ سے ملنے والے ہیں جب انیسویں صدی کی دو راہبوں کو ولی قرار دیا جائے گا۔

ویٹیکن کو فلسطین میں واقع کیتھولک فرقے کےگرجا گھروں کی جائیداد اور ان کے حقوق کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ویٹکن کو اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں زبردست مذہبی دلچسپی ہے ان میں عیسائیوں کے مقدس مقامات بھی شامل ہیں۔

بیت المقدس میں رومن کیتھولک پوپ فرانسس کی طرف سے دو راہبوں کو سینٹ کا درج دینے کی تقریب کی تیاریاں کر رہے ہیں جو کہ موجودہ دور میں پہلے فلسطینی سینٹ ہوں گے۔

روم میں موجود بی بی سی کے ڈیوڈ ویلی کے مطابق پوپ فرانسس مشرق وسطیٰ میں عیسائیت کی موجودگی پر زور دے رہے ہیں خاص طور پر ایک ایسے وقت جب لاکھوں عرب عیسائی دولت اسلامیہ کی جارحیت کی وجہ سے خطے سے نکل رہے ہیں۔

فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا ویٹیکن کی طرف سے اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب دوسرے ممالک بھی اس طرف مائل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں

گزشتہ سال یورپی پارلیمنٹ کے علاوہ برطانیہ، رپبلک آف آئرلینڈ، سپین اور فرانس کے منتخب نمائندے اس طرح کی قراردادیں منظور کر چکے ہیں۔

سویڈن کی حکومت نے تو سرکاری طور پر فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے ان تمام اقدامات پر تنقید کی گئی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ ان سے مذاکرات نہ کرنے کے بارے میں فلسطین کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

اس معاہدے کے بعد فلسطین کے زیر قبضہ علاقوں میں کیتھولک فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی سرگرمیوں کا تعین ہوگا۔

ویٹیکن کا کہنا ہے کہ وہ آزاد، خود مختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کا قیام دیکھنا چاہتا ہے۔ پوپ نےگزشتہ سال مشرق وسطی کا دورہ کیا تھا

اسی بارے میں