بوسٹن بم دھماکوں کے مجرم کو سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فیصلہ سنائے جانے پر جوہر سارنیف کا چہرہ کسی قسم کے جذبات سے عاری تھا

امریکہ میں بوسٹن بم دھماکوں سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والی ایک جیوری نے 14 گھنٹے کی طویل مشاورت کے بعد گذشتہ سال ہونے والے بوسٹن بم دھماکوں کے مجرم جوہر سارنیف کو مہلک ٹیکے کے ذریعے سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔

جوہر سارنیف 30 الزامات میں مجرم قرار

حملے خود کیے بیرونی مدد نہیں لی

خیال رہے کہ امریکہ میں سنہ 2013 میں بوسٹن میراتھن کی اختتامی لائن کے قریب بم نصب کرنے کا جرم ثابت ہونے پر جوہر سارنیف گذشتہ ماہ مجرم قرار دیا گیا تھا۔

جمعے کو پانچ مرد اور سات خواتین پر مشتمل جیوری نے14 گھنٹے تک طویل مشاورت کے بعد انھیں سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا۔

21 سالہ جوہر سارنیف نے عدالت کا فیصلہ سننے کے بعد اپنے سر کو جھکا لیا تاہم کسی قسم کے جذبات کا اظہار نہیں کیا۔ انھیں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

جوہر سارنیف کو انڈیانا کی فیڈرل جیل میں بھجوایا جائے گا جہاں وہ سزائے موت پر عملدرآمد کا انتظار کریں گے جبکہ اس دوران اعلی عدالتوں میں اپیل کا ایک طویل سلسلہ ہوگا۔

آنکھ کے بدلے آنکھ

بوسٹن بم دھماکوں کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے سینڈی کورکوران نے فیلصہ سننے کے بعد کہا ’اب اسے جانا ہوگا اور ہم آگے بڑھ سکیں گے، انصاف، دوسرے لفظوں میں آنکھ کے بدلے آنکھ۔‘

خیال رہے کہ میساچوسٹس میں سزائے موت کو سنہ 1984 میں کالعدم قرار دیا گیا لیکن جوہر سارنیف پر وفاق کے تحت مقدمہ چلایا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں موت کی سزا ہو سکتی تھی۔

عدالتی فیصلے کے بعد امریکی اٹارنی جنرل کارمن اورٹز نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک ہولناک جرم کے لیے یہ مناسب سزا ہے۔

انھوں نے کہا: ’جیوری نے فیصلہ سنا دیا اور اب جوہر سارنیف کو اپنے جرم کا حساب چکانا ہوگا۔‘

دوسری جانب بوسٹن دھماکے کے تمام متاثرین سزائے موت کے حق میں نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جوہر سارنیف کے رشتے دار فیصلے کے بعد آبدیدہ نظر آئے

بوسٹن بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے آٹھ سالہ لڑکے مارٹن رچرڈ کے والدین نے ’بوسٹن گلوب‘ نامی اخبار میں لکھا کہ حکومت کو اس کے لیے سزائے موت نہیں طلب کرنی چاہیے کیونکہ اس سے ان کے جذباتی زخموں کو بھرنے میں تاخیر ہوگی۔

خبررساں ادارے اے پی نے جب جوہر کے والد انظر سارنیف سے روس کے علاقے داغستان میں فون پر رابطہ قائم کیا تو ادھر سے سکسکیوں کی آواز آئی اور فون منقطع کر دیا گیا۔

بوسٹن بم حملوں میں تین افراد ہلاک اور 260 زخمی ہوئے تھے۔

جوہر سارنیف کے 26 سالہ بھائی تیمرلان سارنےیف بوسٹن بم دھماکوں کے دو روز بعد پولیس کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے تھے۔

جوہر سارنیف کو امریکی پولیس نے میساچوسٹس میں ایک کشتی سے پکڑا تھا جو ایک گھر کے پیچھے کھڑی تھی۔

Image caption بوسٹن بم حملوں میں تین افراد ہلاک اور 260 زخمی ہوئے تھے

تفتیش کاروں کے مطابق بوسٹن میراتھن دوڑ میں استعمال ہونے والے بم پریشر ککر میں نصب کیے گئے تھے۔

جوہر سارنیف کے وکیل نے جیوری کے سامنے یہ تو قبول کیا کہ ان کے موکل حملوں میں ملوث تھے تاہم انھوں دفاع میں کہا کہ حملوں کے مرکزی مجرم ان کے بھائی تیمرلان تھے۔

ان کے وکیل نے جوہر سارنیف کی کم عمری کو بھی اہم نکتے کے طور پر پیش کیا اس کے علاوہ ان کی زندگی کے ابتدائی مشکل ادوار کا حوالہ بھی دیا۔

خیال رہے کہ حملے کے وقت ان کی عمر 19 سال تھی وہ چیچن ہیں اور 2002 سے بوسٹن میں رہائش پذیر تھے۔

اسی بارے میں