امریکی سپیشل فورسز کی شام میں کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption شام اور عراق کے بڑے علاقوں پر قابض دولتِ اسلامیہ کے لیے تیل اور گیس آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں

پینٹاگون کے مطابق امریکی افواج کے خصوصی دستوں نے مشرقی شام میں ایک کارروائی میں دولتِ اسلامیہ کے ایک سینیئر رکن کو ہلاک اور اس کی بیوی کو گرفتار کر لیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ابو سیف فوجی معاملات کے علاوہ تیل اور گیس کی فروخت کے ساتھ دولتِ اسلامیہ کے دیگر مالی معاملات کو بھی دیکھتے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ امریکی فوجیوں سے جھڑپ میں مارے گئے۔

العمر کے علاقے میں کی جانے والی یہ کارروائی عراق میں تعینات امریکی فوجیوں نے کی اور اس کی اجازت خود صدر اوباما نے دی تھی۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں حصہ لینے والے امریکی فوجیوں میں سے کوئی بھی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

کہا جا رہا ہے کہ اس کارروائی میں گرفتار ہونے والی ابو سیف کی بیوی امِ سیف بھی دولتِ اسلامیہ کی رکن ہے اور اس پر شبہ ہے کہ اس چھاپے میں آزاد کرائی جانے والی نوجوان یزیدی خاتون کو غلام بنانے میں وہ اپنے خاوند کے ساتھ شامل تھی۔امِ سیف کو عراق میں فوجی حراست میں رکھا گیا ہے۔

اس سے پہلے شام کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا تھا کہ ملک کی افواج کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف کی جانے والی ایک کارروائی میں گروہ کے تیل کے وزیر سمیت 40 جنگجوؤں مارے گئے ہیں۔

واضع رہے کہ شام اور عراق کے بڑے علاقوں پر قابض، دولتِ اسلامیہ کے لیے تیل اور گیس آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

بدھ کے روز عراقی حکومت کی جانب سے جاری کیےگئے ایک بیان میں کہاگیا تھا کہ ملک میں دولتِ اسلامیہ کا نائب رہنما امریکی فضائی بمباری میں ماراگیا ہے تاہم امریکہ کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

دریں اثنا رمادی کے شہر جہاں جمعہ کو دولتِ اسلامیہ نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرلیا تھا میں عراقی افواج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

شام میں پالمیرا کے قدیم شہر کے ارد گرد بھی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں اور شامی حکومتی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

یاد رہے کہ اسی ہفتے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اپنے سربراہ ابوبکر البغدادی کا ایک صوتی پیغام جاری کیا تھا جو درست ثابت ہونے کی صورت میں گذشتہ کئی ماہ کے بعد منظر عام پر آنے والا ان کا پہلا پیغام ہوگا۔

اسی بارے میں