’میانمار روہنجیا پناہ گزینوں کی کشتیوں کا ذمہ دار نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کشتیوں میں سوار پناہ گزین فاقہ کشی پر مجبور ہیں

میانمار کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ روہنجیا مسلمان پناہ گزینوں کی سمندر میں پھنسی کشتیوں کا ذمہ دار نہیں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس مسئلے پر منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں بھی شرکت نہ کرے۔

اس وقت بحیرۂ انڈمان میں میانمار اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے ہزاروں پناہ گزین کشتیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

’مسلمانوں کے حلاف تعصب ریاستی پالیسی ہے‘

انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی حکومتیں ان کشتیوں کی ذمہ داری لینے سے انکاری ہیں۔

کشتیوں میں پھنسے پناہ گزینوں کی پانی اور خوارک کی کمی کی وجہ سے حالت کافی خراب ہے۔

ان کشتیوں پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے پھینکی جانے والی خوراک اور پانی کو حاصل کرنے کے لیے پناہ گزینوں میں لڑائی بھی ہوئی ہے۔

میانمار یا برما میں روہنجیا مسلمانوں کو ملک کا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا اور حالیہ برسوں میں ہزارہا روہنجیا تعصب سے مجبور ہو کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

پناہ گزینوں کے مسئلے پر تھائی لینڈ میں 29 مئی کو 15 ممالک کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے تاہم میانمار کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر ژو ہتائے کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا اگر دعوت نامے میں ’روہنجیا‘ کا استعمال کیا گیا کیونکہ ان کا ملک روہنجیا کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔

انھوں نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا:’ہم اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کر رہے ہیں لیکن ہم چند ممالک کے ان الزامات کو قبول نہیں کریں گے کہ میانمار کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا۔‘

Image caption برما روہنجیا مسلمانوں کو اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا

ژو ہتائے نے ایک دوسرے انٹرویو میں فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا:’ پناہ گزینوں کا مسئلہ میانمار کا نہیں ہے، یہ انسانی سمگلنگ کو روکنے میں کمزوری اور تھائی لینڈ کے قوانین کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔‘

جنوبی تھائی لینڈ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق پناہ گزینوں کے مسئلے کو ایک دوسرے کے کوٹ میں پھینکا جا رہا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میانمار سے آنے والے روہنجیا پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور ان کی کشتیوں کو دوسرے ممالک کی جانب موڑ رہے ہیں۔

جمعرات کو پناہ گزینوں کی ایک کشتی کو ملائیشیا کی سمندری حدود سے نکال کر تھائی لینڈ کی سمندری حدود میں چھوڑ دیا گیا۔ جس کے بعد تھائی لینڈ کی بحریہ نے اس کو اپنی حدود سے نکال دیا اور اس وقت یہ میانمار کی سمندری حدود میں کھڑی ہے اور اب اسے یہاں سے نکلا جا رہا ہے۔

کشتیوں پر موجود ایجنٹ تھائی لینڈ نہیں جانا چاہتے کیونکہ وہاں اس وقت انسداد سمگلنگ کارروائیاں جاری ہیں۔

اس وقت کشتیوں پر سوار خواتین اور بچوں کی بھوک سے بری حالت ہے اور ان میں سے بہت سارے بیمار ہو گئے ہیں اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ ان کشتیوں کو اور کتنا سفر کرنا پڑے گا۔ اس کے بارے تھائی لینڈ اور ملائیشیا کے حکام کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

Image caption کوئی ملک بھی اس پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہے

گذشتہ ہفتےانڈوینشیا کے شمالی ساحلوں کے قریب سمندر میں پھنسی مسافر کشتی کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا جس میں روہنجیا مسلمان برادری کے تقریباً پانچ سو افراد سوار تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کشتی پر کئی خواتین اور بچے بھے سوار تھے اور انھیں اس وقت بچایا گیا جب یہ انڈونیشیا کے صوبے ایکے کے ساحل سے کچھ دور پانی میں پھنس گئی تھی۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں برما پر زور دیا گیا تھا کہ وہ روہنجیوں کو شہری حقوق فراہم کرے۔

اس سے قبل مارچ سنہ 2014 میں برما میں حکام نے گذشتہ تین دہائیوں میں پہلی بار مردم شماری کا کام شروع کیا تھا تاہم انھوں نے روہنجیا اقلیت کے اندراج سے انکار کر دیا تھا۔

اس پر اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ برما کے تمام باشندوں کو اپنی نسلی شناخت کے انتخاب کی آزادی ہونی چاہیے۔

اقوام متحدہ نے اس مردم شماری میں برما کی حکومت کو تعاون فراہم کیا تھا۔اس کے باوجود برما کے حکام کا کہنا تھا کہ روہنجیا مسلمان خود کو بنگالی مسلمان کے طور پر رجسٹر کروائیں ورنہ ان کا اندراج نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں