’آخر لوگوں کو اس ٹیکسی ڈرائیور میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ youtube
Image caption آرمینیا کے ٹیکسی ڈرائیوروں کے مسائل کے بیان نے ارمان کو مقامی ہیرو بنا دیا ہے

انٹرنیٹ پر ایک ٹیکسی ڈارئیور کو لوگ ہیرو کے طور پر دیکھ رہے کیونکہ اس کی لفاظی کے سر اور تال آرمینیا کی عوام سے ہم آہنگ ہیں۔

دنیا میں بہت سی جگہوں پر ٹیکسی ڈرائیوروں کو کامن سنس کا سرچشمہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ وہ روزانہ ہر قسم کے افراد سے ملتا ہیں اور حالات حاضرہ پر اظہار خیال کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ عوام کے موڈ کو جاننے کے لیے ٹیکسی ڈرائیور کا حوالہ صحافت کا معیار بن چکا ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور کی انہی خصوصیات سے مزین ایک گمنام آرمینیائی ٹیکسی ڈرائيور ان دنوں شہرت کی بلندیوں پر ہے جو خاصا بااثر نظر آتا ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور ارمان گالستیان اس ماہ کے اوائل میں آرمینیائی دارالحکومت یریوان میں نئے ٹیکسی قانون کے خلاف مظاہرہ کرتے نظر آئے۔

اس موقعے پر موجود ٹی وی چینلوں نے گالستیان کا انٹرویو کیا جنھوں نے جذباتی انداز میں ٹیکسی ڈرائیوروں کو درپیش مسائل کا ذکر کیا اور اس کے قابل عمل حل کے بارے میں بات کی۔

انھوں نے ٹیکس میں کمی اور تمام ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے یکساں قانون کی بات کہی۔

جب ویڈیو شیئرنگ سائٹ یوٹیوب پر ان کے انٹرویو یا خود کلامی کو اپ لوڈ کیا گیا تو اسے تین لاکھ بار دیکھا گیا اور یہ 30 لاکھ کی آبادی والے ملک آرمینا میں بہت ہٹ رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس انٹرویو کے بعد ارمان کو ایک ٹاک شو میں مدعو کیا گیا اور فیس بک پر ان کے مداحوں کا ایک پیج ہے جس سے ہزاروں افراد منسلک ہو رہے ہیں

اس کے بعد وہ آن لائن کی سنسنی خیز شخصیت کے طور پر دیکھے گئے اور پھر انھیں ایک مقبول ٹاک شو میں شامل کیا گیا جو انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیا۔

ٹاک شو پر انھوں نے سرکاری حکام سے سوٹ اتار کر ڈرائیونگ کی ترغیب دی تاکہ یریوان میں ٹیکسی کے شعبے کی حقیقت ان پر آشکار ہو۔

انھوں نے کہا ’ہمیں غیر حقیقی سے حقیقی دنیا میں آ کر لوگوں کی زبان میں بات کرنی چاہیے۔‘

لوگوں کو اس ٹیکسی ڈرائیور میں آخر کیوں دلچسپی ہے۔ اس کا جواب بی بی سی مونیٹرنگ کے تغرن ذکریاں یوں دیتے ہیں لوگ حکام کے ساتھ معاملات اور مختلف لوگوں کے لیے مختلف قوانین کی بات پر گالستیان کو اپنا ہم نوا مانتے ہیں۔

’ان کی زبان خواہ مقامی ہو لیکن ان کا انداز اور پیغام واضح ہے اور آرمینیا میں لوگ انھیں اور مثبت تسلیم کرتے ہیں۔‘

یریوان میں آرٹ ڈائکٹر آرام شاہینیان نے انھیں ’مقامی ہیرو‘ کہا جبکہ فیس بک پر گالستیان کے فین پیج پر ہزاروں لوگ شامل ہو رہے ہیں۔