فلسطینی صدر محمود عباس’امن کا فرشتہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پوپ فرانسس نے فلطسینی صدر سے 20 منٹ ملاقات کی

رومن کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے فلسطینی صدر محمود عباس کو’ امن کا فرشہ‘ کہا ہے۔

کیتھولک عیسائیوں کے مرکز ویٹیکن میں پوپ فرانسس نے صدر محمود عباس سے ملاقات میں انھیں امن کا فرشتہ کہا۔

فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا معاہدہ جلد

صدر عباس اتوار کو 19ویں صدی کی دو فلسطینی راہبوں کو سینٹ یعنی ولی قرار دیے جانے کی تقریب میں شرکت کے لیے ویٹیکن کا دورہ کر رہے ہیں۔

سنیچر کو پوپ فرانسس نے فلطسینی صدر سے 20 منٹ ملاقات کی اور اس کے دوران انھیں ایک میڈل دیا گیا جس پر امن کے فرشتے کی تصویر کشی کی گئی تھی۔

اس موقعے پر پوپ فرانسس نے کہا:’یہ بالکل مناسب ہے کیونکہ آپ امن کا فرشتہ ہیں۔‘

ویٹیکن کو فلسطین میں واقع کیتھولک فرقے کےگرجا گھروں کی جائیداد اور ان کے حقوق کے بارے میں تشویش لاحق ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان گرجا گھروں کی حفاظت کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یورپ کے کئی منتخب ادارے فلسطین کے حق میں قرار دادیں منظور کر چکے ہیں

اس سے پہلے جمعے کو ویٹیکن کے حکام نے جلد ہی ایک معاہدے کے تحت فلسطینیوں کی علیحدہ ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیل نے ویٹیکن کے اس اعلان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے قیام امن کے علم پر مثبت اثر نہیں پڑے گا۔

فلسطین اور ویٹیکن کے درمیان جو اسرائیل اور فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے مذاکرات کا عمل 20 سال سے جاری ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ویٹکن کو اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں زبردست مذہبی دلچسپی ہے ان میں عیسائیوں کے مقدس مقامات بھی شامل ہیں۔

روم میں موجود بی بی سی کے ڈیوڈ ویلی کے مطابق پوپ فرانسس مشرق وسطیٰ میں عیسائیت کی موجودگی پر زور دے رہے ہیں خاص طور پر ایک ایسے وقت جب لاکھوں عرب عیسائی دولت اسلامیہ کی جارحیت کی وجہ سے خطے سے نکل رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں

فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا ویٹیکن کی طرف سے اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب دوسرے ممالک بھی اس طرف مائل ہیں۔

گذشتہ سال یورپی پارلیمنٹ کے علاوہ برطانیہ، رپبلک آف آئرلینڈ، سپین اور فرانس کے منتخب نمائندے اس طرح کی قراردادیں منظور کر چکے ہیں۔

سویڈن کی حکومت نے تو سرکاری طور پر فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے ان تمام اقدامات پر تنقید کی گئی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ ان سے مذاکرات نہ کرنے کے بارے میں فلسطین کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

اس معاہدے کے بعد فلسطین کے زیر قبضہ علاقوں میں کیتھولک فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی سرگرمیوں کا تعین ہوگا۔

ویٹیکن کا کہنا ہے کہ وہ آزاد، خود مختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کا قیام دیکھنا چاہتا ہے۔ پوپ نےگذشتہ سال مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا تھا

اسی بارے میں