سعودی عرب میں منیشات کی سمگلنگ پر پاکستانی کا سرقلم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کے شرعی نظام میں ریپ، قتل، مسلح ڈکیتی اور منشیات کی سمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا دی جاتی ہے

سعودی عرب میں وزارتِ داخلہ کے مطابق ایک اور پاکستانی شہری کا ہیروئن کی سمگلنگ کے جرم میں سر قلم کر دیا ہے جبکہ سعودی عرب میں رواں سال اب تک 84 مجرموں کو موت کی سزا دی جا چکی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سعودی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو پاکستانی شہری افتخار محمد ولد محمد عنایت کو ہیروئن کی سمگلنگ کے جرم میں موت کی سزا دی گئی۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق افتخار محمد نے پیٹ میں ہیروئن چھپا کر سعودی عرب سمگل کرنے کی کوشش کی تھی اور ساحلی شہر جدہ میں ان کا سر قلم کیا گیا۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق حکومت منشیات کی روک تھام کے لیے کوششیں کر رہی ہے کیونکہ یہ معاشرے کے لیے اور انفرادی طور پر سخت نقصان دہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ماہر اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل سعودی عرب میں پھانسی کی سزا پر پابندی کا مطالبہ کر چکی ہے۔

ایمنیسٹی کے مطابق سعودی عرب کا شمار دنیا کے تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں بڑے پیمانے پر مجرموں کو سزائے موت دی جاتی ہیں۔

رواں سال جنوری میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کرسٹوف ہینز نے سعودی عرب میں مقدموں کی سماعت کو انتہائی غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بعض اوقات تو ملزموں کو اپنے دفاع کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ملزمان سے تشدد کے ذریعے اعتراف جرم کرایا جاتا ہے۔

رواں ماہ فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے سعودی عرب کے دورے کے موقعے پر سزائے موت پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

سعودی عرب کے شرعی نظام میں ریپ، قتل، مسلح ڈکیتی اور منشیات کی سمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔

اسی بارے میں