’عالم پناہ صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ناقدین کہتے ہیں کہ گذشتہ کچھ عرصے سے صدر براک اوباما کا رویہ ایک منتخب شہنشاہ جیسا رہا ہے۔ لیکن معروف برطانوی تاریخ دان ڈیوڈ کناڈین کہتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ سنہ 1776 سے امریکی صدور یہی کرتے رہے ہیں اور اگرچہ امریکی صدر کو ’جہاں پناہ‘ کہا نہیں جاتا لیکن حقیقت میں امریکی صدر کسی بادشاہ سے کم نہیں ہوتا۔

برطانیہ میں بھی حال ہی میں انتخابی مہم کہنے کو تو چھ ہفتے چلی لیکن لگتا تھا کہ یہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ تاہم یہاں چھ ہفتے بعد انتخابات ہو گئے اور رائے دہندگان نے ڈیوڈ کیمرون کو اگلے پانچ برس کے لیے وزیرِ اعظم منتخب کر کے 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں بیٹھ کر حکومت چلانے کا اختیار دے دیا ہے۔

اگرچہ بحر الکاہل کی دوسری جانب امریکہ میں نئے صدر کے لیے ووٹ نومبر 2016 تک نہیں ڈالے جائیں گے لیکن امریکی صدارت کے لیے لڑائی زور و شور سے شروع ہو چکی ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی ارکان اپنی جماعت کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کے لیے میدان میں کود چکے ہیں۔

انتخابات میں ابھی 18 ماہ باقی ہیں اور حقیقت میں صدر اوباما وائٹ ہاؤس جنوری سنہ 2017 تک نہیں چھوڑیں گے جب تک نئے صدر اپنے عہدے کا حلف نہیں اٹھا لیتے۔

برطانیہ کے مقابلے میں یہ مدت بہت طویل ہے لیکن اکثر لوگ اس کی توجیہہ یہ پیش کرتے ہیں کہ برطانیہ کے برعکس امریکہ میں صدارت کا انتخاب جیتنے کی لیے درکار صلاحیتیں ان صلاحیتوں سے بہت مختلف ہوتی ہیں جو آپ کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں بیٹھ کر صدارت کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے درکار ہوتی ہیں۔

امریکی عوام ہمارے مقابلے میں اپنا صدر چننے میں اتنا زیادہ وقت کیوں لگاتے ہیں، اس کی کئی وجوہات ہیں تاہم میرے خیال اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ہم برطانیہ میں انتخابات کے ذریعے صرف اپنی اگلی حکومت کے سربراہ کا انتخاب کرتے ہیں جبکہ امریکی نہ صرف اپنی حکومت کا سربراہ منتخب کرتے ہیں بلکہ وہی رہنما ان کی ریاست کا سربراہ بھی بنتا ہے۔

لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکی صدارت کا عہدہ مغربی یورپی ممالک کے صدور سے کیوں کر مختلف ہوتا ہے؟

ریپبلکن پارٹی کے کئی ارکان کا الزام ہے کہ صدر اوباما عہدۂ صدارت میں وہ کر رہے ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مثلاً گذشتہ نومبر میں صدر اوباما نے ایک صدارتی حکم یا ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے لاکھوں تارکین وطن کو امریکہ سے نکالے جانے کے عمل کو روک دیا اور ملک میں ان کے قیام کو قانونی تحفظ دے دیا۔ ان کے ناقدین کا الزام تھا کہ یہ حکم جاری کر کے صدر اوباما نے اپنے جائز آئینی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ بلکہ یہاں تک کہ ناقدین نے الزام لگایا کہ صدر اوباما کا رویہ ایسا ہے جیسا یورپ کے قدیم باشاہوں کا ہوتا تھا یا ایشیا کے ان مطلق العنان حکمرانوں جیسا جو کسی آئینی پابندی کو خاطر میں نہیں لاتے۔

لیکن اس کے باجود یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ صدر اوباما پہلے امریکی صدر نہیں جنھوں نے کوئی ایسا کام کیا جس کی بنیاد پر ان پر ایسے الزامات لگائے جا سکتے ہیں، بلکہ صدر اوباما نے دور دور تک کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا جو ان سے پہلے کے کئی امریکی صدور کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 1830 کی دھائی میں جب اینڈریو جیکسن نے وائٹ ہاؤس میں قدم رکھا تو کچھ امریکیوں کو پریشانی لگ گئی

چاہے وہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹس، امریکی صدور پر یہ الزام کہ ان کا رویہ اور رکھ رکھاؤ شہنشاہوں جیسا ہوتا ہے اتنا ہی پرانا ہے جتنی قدیم خود امریکی جمہوریہ ہے۔

سنہ 1830 کی دھائی میں جب اینڈریو جیکسن نے وائٹ ہاؤس میں قدم رکھا تو کچھ امریکیوں کو پریشانی لگ گئی کہ ان کے صدر کو بہت زیادہ اختیارات اور طاقت حاصل ہو گئی ہے۔ یہاں تک کہ اس زمانے میں ایسے کارٹون شائع ہوئے جن میں انہیں ’شہنشاہ اینڈریو اوًل‘ کے روپ میں پیش کیا گیا جس نے شاہی لباس پہنا ہوا تھا اور ہاتھ میں ویٹو کا شاہی فرمان پکڑا ہوا تھا۔

امریکہ میں خانہ جنگی کے برسوں میں جب ابراہم لنکن امریکہ کے طاقتور ترین اور سب سے بڑے فیصلہ ساز صدر کی حییثیت میں ابھرے تو اس وقت بھی کہا گیا کہ ان کا رویہ بھی بادشاہوں جیسا ہو گیا تھا۔

اور پھر 20ویں صدی کے اوائل میں تھیوڈر روزویلٹ کے زمانے میں بھی اسی قسم کے الزامات نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔ جیفرسن کے بعد تھیوڈر روزویلٹ وہ صدر تھے جن کا تعلق امریکہ کی پرانی اشرافیہ سے تھا اور اپنی والدہ کی نسبت سے وہ فخریہ کہہ سکتے تھے کہ ان کا شجرہ نسب سکاٹ لینڈ کے شاہی خاندان سے ملتا ہے اور ان کی رگوں میں یورپ کی اشرافیہ کا خون دوڑ رہا ہے۔

تھیوڈر روزویلٹ نے امریکی صدارت کے بڑے عہدے کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اس عہدے کے اختیارات میں مزید اضافہ کیا بلکہ اس کی شان و شوکت بھی بڑھائی اور مشہور برطانوی ادیب رُڈیارڈ کِپلنگ کے بقول انھوں نے اس بات کو بھی سر پر سوار کر لیا تھا کہ دنیا کا سارا بوجھ ’سفید فام اشرافیہ‘ کے کاندھوں پر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تھیوڈر روزویلٹ نے امریکی صدارت کے بڑے عہدے کی شان و شوکت بھی بڑھائی

تھیوڈر روزویلٹ کے دُور کے رشتہ دار اور ان کے بعد صدر بننے والے فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ بھی اپنے پیش رو سے کم شاہی رویوں کے حامل نہیں تھے۔ بعد میں فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ اتنے مقبول ثابت ہوئے کہ وہ تیسری مرتبہ امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے جس کی امریکہ میں پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

ان تاریخی حقائق کے روشنی میں دیکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی صدر اوباما پر ان الزامات میں کچھ نیا ہے کہ ان کا رویہ بادشاہوں جیسا ہے؟

قطع نظر اس کے کہ ان الزامات میں کتنی سچائی ہے یا نہیں، ہمیں ان الزامات پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ امریکی قوم کا قیام ہی اس بنیاد پر ہوا تھا کہ شہنشاہیت ایک غلط چیز ہے اور آئندہ ان کے ہاں اس قسم کی کوئی حرکت نہیں ہوگی۔

امریکہ کے ’آزادی کے اعلامیے‘ میں کہا گیا تھا کہ شاہ جارج سویم کا عہد ’بار بار کے زخموں اور دوسروں کے حقوق کی تلفی‘ پر مبنی تھا۔ کئی دوسرے اقدامات کے علاوہ جارج سویم نے انصاف کا راستہ روکا، اور ایسے قوانین نہیں بننے دیے جو ’تمام عوام کی فلاح‘ کے لیے ضروری تھے اور انھوں نے ’ہمارے سمندروں کو لوٹا اور ہمارے قصبوں کو جلا کر راکھ کر دیا۔‘

’اعلامیۂ آزادی‘ کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے کہ شاہ جارج سویم ’ایک ایسا شہزادہ تھا جس کا ہر اقدام ایک مطلق العنان حکمران جیسا تھا‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ’ آزاد لوگوں پر حکمرانی کے قابل نہیں تھے۔‘

ان کلمات کو یاد کریں تو آپ کو بالکل حیرت نہیں ہوتی کہ امریکہ کی جنگ آزادی کے بعد امریکی رہنما اس بات پر متفق تھے کہ امریکہ کا نیا سربراہِ مملکت ایک منتخب صدر ہونا چاہیے نہ کہ کوئی بادشاہ۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ بھی اپنے پیش رو سے کم شاہی رویوں کے حامل نہیں تھے۔

لیکن یہ کہانی ادھوری ہے۔

شاہ جارج سویم پر جس طرح کے الزامات لگائے جا رہے تھے اور انھیں جس طرح برا بھلا کہا جا رہا تھا اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ ان الزامات میں بے پناہ مبالغہ آمیزی سے کام لیا جا رہا تھا۔ جو طاقت جارج سویم سے چھینی جا رہی تھی امریکی رہنما وہی طاقت اپنے آئندہ صدور کو دینے جا رہے تھے۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ جب جارج سویم برطانیہ کی جانب سے امریکیوں سے ٹیکس وصول کرنے کی بات کر رہے تھے تو اس وقت بھی ان کا خیال یہ تھا کہ وہ یہ اقدامات برطانوی پارلیمان کے کہنے پر کر رہے ہیں نہ کہ برطانوی تاج کے نمائندے کے طور پر۔

ستم ظریقی دیکھیے کہ جب امریکی انقلاب کے رہنما یہ فیصلہ کر رہے تھے کہ نئے منتخب صدر کو کیا کیا اختیارات حاصل ہونے چاہئیں تو ان کے سامنے جو واحد نمونہ تھا وہ شاہ جارج سویم کا ہی تھا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت کے امریکی رہنماؤں نے اپنے صدر کو تقریباً وہی اختیارات دے دیے جو ان کے خیال میں شاہ جارج سویم غلط طور پر استعمال کر رہے تھے، مثلاً اپنی کابینہ خود منتخب کرنا اور اسے برطرف کرنے کا حق، جنگ پر جانے کا فیصلہ کرنا اور ملک کی مقننہ کی جانب سے تجویز کردہ قوانین کو ویٹو کرنے کا حق۔

اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا امریکی صدر کا عہدہ شروع ہی سے ایسا بن گیا کہ جس میں صدر کو ایک قسم کی شاہی اتھارٹی حاصل ہوگئی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب امریکی وِھگ پارٹی کے رہنما ہینری کلے یہ شکوہ کر رہے تھے کہ اس وقت کے صدر ’اینڈریو جیکسن کی حکومت بڑی تیزی سے ایک منتخب شہنشاہت‘ بنتی جا رہی ہے تو ان کا استدلال غلط تھا کیونکہ امریکی صدارت تو آغاز سے ہی منتخب بادشاہت بن چکی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخ اور حقائق کا ادراک رکھنے والے امریکیوں کو یہ بات پوری طرح سمجھ آ رہی تھی۔ ابراہم لنکن کے وزیرِ خارجہ نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ’ہم چار سال کے لیے اپنے نئے بادشاہ کا انتخاب کرتے ہیں‘ اور ’اسے کچھ حدود کے اندر مکمل اختیارات دے دیتے ہیں، اور یہ حدود بھی وہ ہوتی ہیں جن کی تشریح ہم خود صدر پر ہی چھوڑ دیتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جو طاقت جارج سوم سے چھینی جا رہی تھی امریکی رہنما وہی طاقت اپنے آئندہ صدر کو دینے جا رہے تھے۔

کچھ تجزیہ کار تو وزیِرِ خارجہ سے بھی ایک قدم آگے جاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایک جمہوریہ ہے کیونکہ اس کے ہاں جانشین حکمرانی کی کوئی روایت نہیں اور اس کے برعکس برطانیہ کہتا ہے کہ اس کے ہاں بادشاہت پائی جاتی کیونکہ برطانوی ریاست کا سربراہ بادشاہ یا ملکہ ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ کے نظام میں جمہوریت پوشیدہ ہے جبکہ امریکی نظام میں بادشاہت پوشیدہ ہے۔ 19ویں صدی کے ایک امریکی اخبار کے بقول ’برطانیہ ایک جمہوریہ ہے جہاں صدارت شاہی خاندان کے پاس ہوتی ہے جبکہ امریکہ ایک بادشاہت ہے جہاں صدر ایک منتخب بادشاہ ہوتا ہے۔‘

یہ بات شاید اس وقت بھی مکمل سچ نہیں تھی اور نہ شاید آج مکمل سچ ہے لیکن میرے خیال میں صدر اوباما اور ان کے ریپبلکن ناقدین کو اس پر بہرحال غور کرنے کی ضرورت ہے، قطع نظر اس بات کے کہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کا رہائشی کون ہے اور بکنگھم پیلس کا مکین کون ہے۔

اسی بارے میں